جیوپولیٹکس | زیلنسکی نے ٹرمپ سے روس کے خلاف یوکرین کی حمایت کا مطالبہ کیا

زبان کا انتخاب

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے روس کے خلاف جاری تنازع میں یوکرین کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ درخواست انہوں نے کیو میں صدراتی محل سے اپنے خطاب کے دوران کی، جو روس-یوکرین جنگ کے چوتھے سالگرہ کے موقع پر ہوئی۔ زیلنسکی نے امریکہ کی عالمی اثر و رسوخ کو اجاگر کرتے ہوئے ٹرمپ سے کہا کہ وہ اپنے آئندہ “اسٹیٹ آف دی یونین” خطاب میں یوکرین کے حق میں واضح موقف اختیار کریں۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ “مغربی جمہوری ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے کیونکہ یہ جنگ صرف ایک شخص کی جنگ ہے۔ پوتن جنگ ہے اور اس کا پورا ملک اس کے گرد گھرا ہوا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر واقعی امریکہ چاہتا ہے کہ پوتن کو روکا جائے تو اس کے پاس اس کی طاقت موجود ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن پر کافی دباؤ ڈالا ہے تو انہوں نے جواب دیا “نہیں۔”
یوکرین اور روس کے درمیان تنازعے کی ابتدا 2014 میں ہوئی، جب روس نے کریمیا کو ضم کیا اور اس کے بعد مشرقی یوکرین میں مسلح جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ اس جنگ نے عالمی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، خاص طور پر یورپی سلامتی اور توانائی کی فراہمی کے معاملات میں۔ امریکہ اور نیٹو کے دیگر رکن ممالک نے یوکرین کی حمایت کی ہے، مگر اس تنازعے کا حل ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔
زیلنسکی کی یہ اپیل ایسے وقت میں آئی ہے جب عالمی برادری روس کی جارحیت کو روکنے کے لیے متحرک ہے اور ممکنہ سفارتی حل تلاش کر رہی ہے۔ مستقبل میں اگر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک مزید سخت موقف اختیار کرتے ہیں تو اس سے روس پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی تنازعے میں شدت کے خطرات بھی موجود ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے