میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں امریکہ کی طرف سے ایک اعلیٰ سطحی خطاب پیش کیا گیا، جس میں ‘ٹرمپ 2.0’ کے حکام کی واپسی دیکھی گئی۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ روبیو نے کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے پچھلے سال کے وائس پریزیڈنٹ وینس کے سخت تنقیدی رویے کی نسبت نسبتاً نرم لہجہ اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی نظام کو اس کی “صحیح حالت” میں واپس لانے کے خواہاں ہیں اور اقوام متحدہ کو بین الاقوامی تنازعات حل کرنے میں غیر مؤثر قرار دیا۔
روبیا نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ خود مغربی تہذیب کی تجدید کے لیے اقدامات کرنے کو تیار ہے، تاہم وہ یورپ کے ساتھ تعاون کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کا یہ موقف عالمی سطح پر امریکہ کی قیادت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں مختلف چیلنجز اور جیو پولیٹیکل کشیدگیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین نے روبیو کے خطاب کے بعد ریلیف کا اظہار کیا، جبکہ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر اینڈی کم نے خطاب کے لہجے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ روبیو کی گفتگو وینس کی نسبت کم جارحانہ تھی، مگر پیغام بنیادی طور پر وہی رہا۔ روبیو نے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا کہ ان کا پیغام پچھلے سال وینس کے بیان سے مطابقت رکھتا ہے۔
میونخ سیکیورٹی کانفرنس عالمی سطح کی سلامتی، دفاع اور جیو پولیٹکل مسائل پر تبادلہ خیال کا ایک اہم فورم ہے جہاں مختلف ملکوں کے رہنما اور ماہرین شرکت کرتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے اس قسم کے بیانات عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر انداز ہوتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی استحکام اور اتحاد کے لیے مختلف چیلنجز موجود ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance