ٹرمپ قانونی چیلنجز کے درمیان متبادل ٹیرف حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں

زبان کا انتخاب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت متبادل طریقہ کار پر غور کر رہے ہیں تاکہ اگر سپریم کورٹ 1977 کے ہنگامی قانون کے استعمال کے خلاف فیصلہ دے تو وہ اپنی ٹیرف پالیسیوں کو جاری رکھ سکیں۔ یہ قانون ٹرمپ کی ٹیرف حکمت عملی کی بنیاد رہا ہے، جس کے تحت انہوں نے ملکی تجارت پر اثر انداز ہونے والے محصولات عائد کیے تھے۔ تاہم، اس قانون کی موجودہ دور میں قانونی حیثیت کو چیلنج کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی صداقت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دیگر قانونی راستوں کی تلاش میں ہے تاکہ وہ اپنے تجارتی مقاصد کو حاصل کر سکے اور تجارتی پالیسیوں میں کوئی کمی نہ آئے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ دیگر قانون سازی کے طریقے بھی موجود ہیں جن کے ذریعے صدر اپنی ٹیرف پالیسیوں کو نافذ کر سکتے ہیں، چاہے عدالتوں سے کوئی منفی فیصلہ آئے۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی تجارتی حکمت عملی اور عالمی تجارتی تعلقات پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ برسوں میں چین اور دیگر ممالک کے خلاف ٹیرفز لگا کر ملکی صنعتوں اور ملازمتوں کی حفاظت کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔ تاہم، ان ٹیرفز نے عالمی سپلائی چین اور صارفین کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالا ہے، جس کی وجہ سے قانونی اور سیاسی تنازعات جنم لے رہے ہیں۔
آئندہ کے لیے یہ ممکن ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے 1977 کے قانون کو غیر آئینی قرار دیا تو ٹرمپ انتظامیہ دیگر قانونی اور انتظامی طریقے اختیار کرے گی تاکہ تجارتی پالیسیوں میں استحکام برقرار رہے۔ اس کے ساتھ ہی، تجارتی تنازعات کی شدت اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بھی بڑھ سکتی ہے، جو امریکی معیشت اور عالمی تجارت کے لیے چیلنج کا باعث بن سکتی ہے۔
ٹرمپ کی یہ کوششیں اس بات کا مظہر ہیں کہ وہ اپنی اقتصادی پالیسیوں کو قانونی رکاوٹوں کے باوجود جاری رکھنے کے لیے ہر ممکن راستہ اپنانا چاہتے ہیں، تاکہ امریکی صنعتوں اور ملازمتوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش