جنوبی کوریا نے جاپان کے ‘ٹاکیشیما ڈے’ پروگرام کی سخت مذمت کی

زبان کا انتخاب

جنوبی کوریا نے جاپان کے شیمانے صوبے میں منعقدہ ‘ٹاکیشیما ڈے’ تقریب پر سخت احتجاج کیا ہے۔ جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر جاپان سے اس تقریب کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اسے ڈوکو، جسے جاپان ٹاکیشیما کہتا ہے، پر جنوبی کوریا کی خود مختاری کو چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ یہ علاقہ دونوں ممالک کے درمیان متنازع ہے اور اس پر دیرینہ تنازعہ موجود ہے۔
جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ تاریخی، جغرافیائی اور بین الاقوامی قانون کی بنیادوں پر ڈوکو واضح طور پر جنوبی کوریا کا حصہ ہے۔ وزارت نے جاپان پر زور دیا کہ وہ اپنے غیر معقول دعووں سے باز رہے۔ یہ جزیرے بحر جاپان میں واقع ہیں اور جنوبی کوریا نے وہاں اپنی ملکیت کو مضبوط کرنے کے لیے ایک چھوٹا پولیس دستہ بھی تعینات کیا ہوا ہے۔
یہ تنازعہ دونوں ممالک کے تعلقات پر دیرینہ دباؤ کا باعث رہا ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان یہ علاقائی کشیدگی اکثر سفارتی سطح پر مسائل پیدا کرتی رہی ہے۔ جنوبی کوریا کا موقف ہے کہ یہ جزیرے تاریخی طور پر اور قانونی طور پر اس کے زیر انتظام ہیں، جبکہ جاپان انہیں اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔ ایسے واقعات، جیسے کہ ‘ٹاکیشیما ڈے’ کی تقریبات، تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتے ہیں اور خطے میں سیاسی و سفارتی حساسیت کو بڑھاتے ہیں۔
مستقبل میں، اس تنازعے کے حل کے لیے دونوں ممالک کو مذاکرات اور سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی تاکہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم، اگر یہ قسم کے اقدامات جاری رہے تو تعلقات میں مزید کشیدگی اور ممکنہ سفارتی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے