روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ یہ پیغام روسی خبر رساں ادارے ٹاس کے ذریعے پہنچایا گیا، جو دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کا انتقال ایران کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے جس کا علاقائی اور عالمی سیاست پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے طویل عرصے تک ایران کی اعلیٰ قیادت کی ذمہ داری نبھائی، اور ان کا سیاسی اثر و رسوخ نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیا جاتا رہا ہے۔ ان کا انتقال ایران میں طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے اور مستقبل میں ملک کی خارجہ پالیسی اور علاقائی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ روس اور ایران کے تعلقات خاص طور پر توانائی، دفاع اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں مضبوط ہیں، اور پیوٹن کی جانب سے تعزیت کا پیغام اس دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
علاقائی سطح پر ایران کے سیاسی منظرنامے میں اس تبدیلی کے باعث دیگر عالمی طاقتوں کی توجہ بھی مرکوز ہو گئی ہے، کیونکہ ایران کا کردار مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی تیل کی منڈی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ روس کی طرف سے تعزیت کا یہ اقدام عالمی سیاست میں اس خطے میں روس کے اثر و رسوخ کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ایران میں قیادت کی تبدیلی سے پیدا ہونے والی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز رہیں گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance