چین نے جاپانی کمپنیوں پر برآمدی پابندیاں عائد کر دیں

زبان کا انتخاب

چین کی وزارت تجارت نے 20 جاپانی اداروں کو اپنی برآمدی کنٹرول فہرست میں شامل کر دیا ہے جن میں میتسو بیشی شپ بلڈنگ کمپنی بھی شامل ہے۔ یہ اقدام ان کمپنیوں کے خلاف اٹھایا گیا ہے جو جاپان کی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے میں ملوث ہیں۔ اس پابندی کے تحت ان اداروں کو چین سے فوجی یا دوہری استعمال کی اشیاء کی برآمد پر پابندی عائد کی جائے گی، جس کا مقصد جاپان کی عسکری طاقت کو محدود کرنا اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے چین کی تشویشات کا اظہار کرنا ہے۔
اس فیصلے کا پس منظر علاقائی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور چین و جاپان کے مابین بڑھتے ہوئے تنازعات میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان بحری اور زمینی حدود کے مسائل شامل ہیں۔ چین نے گزشتہ کچھ عرصے میں اپنی فوجی اور اقتصادی طاقت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے ہمسایہ ممالک کی عسکری پیش رفت پر نظر رکھی ہے، اور یہ برآمدی پابندیاں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
جاپان کی معروف صنعتی کمپنی میتسو بیشی شپ بلڈنگ، جو جدید بحری جہازوں کی تیاری اور مرمت میں مہارت رکھتی ہے، اس پابندی سے خاصی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ چین سے ملنے والی بعض اہم اشیاء کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ، اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے جو عالمی سطح پر معاشی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور مستقبل میں فوجی اور اقتصادی تعاون کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ اس تناظر میں، جاپان کی جانب سے چین کے اس اقدام کا جواب اور عالمی برادری کی ردعمل بھی اہم ہو گا جو علاقائی استحکام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے