گیٹ کے سی ای او اور بانی لن ہان کا کہنا ہے کہ بینکوں نے سٹیبل کوائنز کے خلاف جنگ ہار دی ہے

زبان کا انتخاب

کرپٹو کرنسی کی دنیا میں روزانہ کے تجارتی حجم کے لحاظ سے چوتھے نمبر کی بڑی ایکسچینج، گیٹ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر لن ہان نے کہا ہے کہ بینکوں نے سٹیبل کوائنز کے خلاف مقابلے میں شکست کھا لی ہے۔ لن ہان کا یہ موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب سٹیبل کوائنز کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مالیاتی نظام میں ان کے کردار پر بحث جاری ہے۔
سٹیبل کوائنز ایسی ڈیجیٹل کرنسیاں ہوتی ہیں جن کی قیمت کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر یا سونا سے منسلک ہوتی ہے تاکہ کرپٹو مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے۔ یہ کرنسیاں خاص طور پر ان افراد اور اداروں کے لئے اہم ہیں جو کرپٹو کرنسی کے استعمال کو روزمرہ کی مالیات میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ بینکوں کی طرف سے سٹیبل کوائنز کے خلاف محتاط یا مخالف رویہ اور سخت قواعد و ضوابط کی توقع کے باوجود، یہ کرنسیاں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔
لن ہان نے یہ بھی کہا کہ وہ اب بٹ کوائن کے چار سالہ چکروں کو ایک قدیم تصور سمجھتے ہیں۔ بٹ کوائن کے چار سالہ چکر کا مطلب ہے کہ تقریباً ہر چار سال بعد اس کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، جو اب رواں مارکیٹ میں کم نظر آ رہا ہے۔ اس تبدیلی سے کرپٹو سرمایہ کاروں کو نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
گیٹ ایکسچینج نے حالیہ برسوں میں تیزی سے ترقی کی ہے اور اسے عالمی سطح پر کرپٹو ٹریڈنگ میں ایک معتبر پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بانی کی اس قسم کی رائے کرپٹو مارکیٹ میں بدلتے ہوئے رجحانات اور مالیاتی دنیا میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل اثاثوں کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
آئندہ کے لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بینکوں اور روایتی مالیاتی اداروں کا سٹیبل کوائنز اور دیگر کرپٹو اثاثوں کے حوالے سے کیا ردعمل ہوتا ہے، اور آیا وہ اس نئے مالیاتی دور میں خود کو کس حد تک ڈھال پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بٹ کوائن کے قیمت کے نمونوں میں آنے والی تبدیلیاں بھی سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش