وال اسٹریٹ سے ویب3 تک: کرپٹو کرنسیوں کا انضمام کا سال، سلکان ویلی بینک کا بیان

زبان کا انتخاب

سلکان ویلی بینک نے پیشگوئی کی ہے کہ موجودہ سال کرپٹو کرنسیوں کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوگا جہاں یہ ڈیجیٹل اثاثے تجرباتی مراحل سے نکل کر مالی نظام کا لازمی حصہ بن جائیں گے۔ بینک نے بتایا ہے کہ بینک کی پشت پناہی میں مستحکم کرپٹو سکے (stablecoins)، ٹوکنائزڈ خزانے کے بلز (T-bills) اور مصنوعی ذہانت سے لیس والیٹس جیسی جدید ٹیکنالوجیز رواں سال مالیاتی شعبے میں عام ہو جائیں گی۔
مستحکم کرپٹو سکے وہ ڈیجیٹل کرنسیاں ہوتی ہیں جن کی قیمت کسی مستحکم اثاثہ جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے، جو انہیں کرپٹو مارکیٹ میں کم اتار چڑھاؤ کے ساتھ استعمال کے لیے قابلِ اعتماد بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹوکنائزڈ خزانے کے بلز کی پیش رفت سرکاری قرضوں کو بلاک چین پر منتقل کرنے کا ایک طریقہ ہے، جس سے ان کی خرید و فروخت میں آسانی اور شفافیت آئے گی۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی والیٹس صارفین کو بہتر سیکیورٹی اور ذاتی نوعیت کی مالی خدمات فراہم کریں گے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب کرپٹو کرنسیوں کی عالمی قبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مالیاتی ادارے روایتی بینکاری نظام کو ڈیجیٹل اثاثوں کے ساتھ مربوط کرنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کرپٹو کرنسیاں اب محض سرمایہ کاری کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ مالی نظام کا ایک فعال جزو بن کر ابھر رہی ہیں۔
تاہم، اس انضمام کے دوران کئی چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں، جن میں ریگولیٹری مسائل، سیکیورٹی خطرات اور ٹیکنالوجی کی پیچیدگیاں شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مالیاتی اداروں اور ریگولیٹرز کو ان مسائل پر توجہ دینی ہوگی تاکہ کرپٹو اثاثوں کے استعمال کو محفوظ اور مستحکم بنایا جا سکے۔
مجموعی طور پر، یہ سال کرپٹو کرنسیوں کے لیے ایک تاریخی سال ثابت ہو سکتا ہے جس میں وہ مالیاتی دنیا کے اہم نظاموں میں ضم ہو کر اپنی جگہ مضبوط کریں گی۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش