فرانسیسی حکومت نے زیر عمر 15 سال بچوں کے لیے متعارف کرائی جانے والی سوشل میڈیا پابندی کی کامیاب عمل درآمد کے لیے وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) کے استعمال کو محدود کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو آن لائن پلیٹ فارمز تک غیر مجاز رسائی سے روکنا ہے، خاص طور پر ان افراد کو جو وی پی این کے ذریعے پابندی کو چالاکی سے عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وی پی این ٹیکنالوجی صارفین کو انٹرنیٹ پر اپنی اصل شناخت اور مقام چھپانے کی سہولت دیتی ہے، جس کی بدولت وہ مختلف ممالک کی پابندیوں کو باآسانی عبور کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے فرانس کی حکومت کی طرف سے یہ قدم بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ ان کی غیر مناسب مواد اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔
یہ پابندی اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں حکومتیں بچوں اور نوجوانوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ وہ صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ کم عمر افراد کے لیے نقصان دہ مواد کی رسائی محدود ہو سکے۔
فرانسیسی حکام کا ماننا ہے کہ اگر وی پی این کے ذریعے پابندی کو نظر انداز کیا گیا تو اس کا مقصد پورا نہیں ہو سکے گا اور نوجوان پھر بھی سوشل میڈیا تک آزادانہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس لیے اس ٹیکنالوجی پر مناسب کنٹرول لازمی ہے تاکہ قانون کی روح کے مطابق حفاظتی اقدامات نافذ کیے جا سکیں۔
اگرچہ وی پی این استعمال کنندگان کی پرائیویسی کے لیے اہم ہے، لیکن اس کا غلط استعمال قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومتوں کے لیے چیلنج بن چکا ہے۔ فرانسیسی حکومت کی جانب سے وی پی این استعمال پر پابندی یا کنٹرول کے نفاذ سے متعلق مزید تفصیلات آئندہ ہفتوں میں سامنے آ سکتی ہیں، جس کے اثرات نوجوانوں کی آن لائن سرگرمیوں اور سوشل میڈیا انڈسٹری پر پڑ سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt