گوگل کے سابق انجینئر کو چین کے لیے مصنوعی ذہانت کے راز چوری کرنے پر سزا

زبان کا انتخاب

امریکہ میں ایک امریکی جیوری نے گوگل کے سابق انجینئر لن وے ڈنگ کو اقتصادی جاسوسی اور تجارتی راز چوری کے الزام میں مجرم قرار دیا ہے۔ لن وے ڈنگ پر الزام تھا کہ اس نے گوگل کی حساس مصنوعی ذہانت (AI) کے انفراسٹرکچر سے متعلق معلومات چوری کیں، جو کمپنی کے جدید تحقیقاتی منصوبوں کا حصہ تھیں۔
گوگل دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے جس نے مصنوعی ذہانت میں نمایاں ترقی کی ہے۔ اس کی AI تحقیقاتی ٹیمیں جدید الگورتھمز اور انفراسٹرکچر تیار کر کے دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی معلومات کی چوری کمپنی کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ یہ نہ صرف کاروباری نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ قومی سلامتی کے مسائل بھی پیدا کر سکتی ہے۔
اقتصادی جاسوسی کی یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حساس ڈیٹا کے تحفظ پر زور دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکی اور چینی تعلقات میں تناؤ کے پیش نظر، ایسی چوری کی وارداتیں دونوں ممالک کے مابین اعتماد میں مزید کمی کا باعث بنتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سیکیورٹی نظام کو مزید سخت بنانے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے تاکہ مستقبل میں حساس معلومات کی حفاظت کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، قانونی کارروائیاں بھی اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اطلاعات کی حفاظت کو کس حد تک سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
لن وے ڈنگ کی اس سزا کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ دیگر ٹیکنالوجی ادارے بھی اپنے ڈیٹا سیکیورٹی نظام کو مضبوط بنائیں گے تاکہ کسی بھی قسم کی داخلی یا خارجی چوری سے بچا جا سکے۔ اس واقعے نے عالمی ٹیکنالوجی کمیونٹی میں ڈیٹا تحفظ کے موضوع پر بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش