حال ہی میں جاری ہونے والے فیڈرل ریزرو کے اجلاس کے منٹس میں مہنگائی کے حوالے سے تشویشات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال دسمبر تک فیڈرل ریزرو نے پیش گوئی کی تھی کہ مہنگائی کی شرح 2027 تک 2 فیصد تک پہنچ جائے گی، تاہم دسمبر کے اجلاس کے منٹس میں اس پیش گوئی کو ایک سال کے لیے بڑھا کر 2028 کر دیا گیا تھا۔ جنوری کے اجلاس کے منٹس میں مہنگائی کے 2 فیصد تک پہنچنے کی کوئی واضح تاریخ نہیں دی گئی، بلکہ کہا گیا کہ مہنگائی کی شرح میں معمولی اضافہ ہوا ہے لیکن یہ اب بھی مستحکم ہے۔
اجلاس کے منٹس میں یہ بھی توقع ظاہر کی گئی ہے کہ تجارتی محصولات (ٹیرف) کا اثر سال کے نصف تک ختم ہو جائے گا، جس کے بعد مہنگائی کی شرح دوبارہ کم ہونے کے رجحان میں آ جائے گی۔ دسمبر کے اجلاس میں جو 2028 تک 2 فیصد مہنگائی کی پیش گوئی کی گئی تھی، وہ جنوری کے منٹس میں شامل نہیں کی گئی۔ یہ صورتحال امریکی معیشت میں مہنگائی کے دیرپا اثرات اور غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، جو عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
فیڈرل ریزرو امریکی مرکزی بینک ہے جس کا بنیادی مقصد ملک میں قیمتوں کی استحکام اور روزگار کی بلند سطح کو یقینی بنانا ہے۔ مہنگائی کی شرح پر اس کے فیصلے عالمی مالیاتی منڈیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے اہم رہتے ہیں، کیونکہ یہ شرح سود پر اثر انداز ہوتے ہیں جو قرضوں اور سرمایہ کاری کی لاگت کو متاثر کرتے ہیں۔ مہنگائی کی بلند شرح سے صارفین کی خریداری کی قوت متاثر ہوتی ہے اور معیشت میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ فیڈرل ریزرو اپنی پالیسیوں میں کیا تبدیلیاں کرتا ہے تاکہ مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکے، خاص طور پر جب عالمی معیشت میں بے یقینی اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ سرمایہ کار اور معیشت کے ماہرین اس سلسلے میں آنے والے اجلاسوں اور فیڈرل ریزرو کے بیانات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مستقبل کی مالیاتی حکمت عملی کا اندازہ لگا سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance