امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (ایف سی سی) نے ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے مدار میں اے آئی انفراسٹرکچر قائم کرنے کے منصوبے کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب اسپیس ایکس کو اس کے اسٹارلِنک جنریشن 2 کے توسیعی منصوبے کی منظوری مل چکی ہے، اور ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت کی سہولیات کو زمین سے آسمان کی جانب منتقل کرنے کی کوششوں میں تیزی لائی ہے۔
اسپیس ایکس کا اسٹارلِنک پروجیکٹ دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے سیٹلائٹس کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے جو کہ خلاء میں مدار میں گردش کر رہے ہیں۔ کمپنی نے حال ہی میں اپنی دوسری جنریشن کی توسیع کی منظوری حاصل کی ہے جس کے تحت مزید جدید سیٹلائٹس مدار میں بھیجے جائیں گے۔ اب ایلون مسک کا نیا منصوبہ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کو اسی مدار میں قائم کرنے کا ہے، جس کا مقصد اے آئی سروسز کی کارکردگی اور رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
ایف سی سی کا یہ جائزہ اس بات کی تصدیق کرے گا کہ آیا یہ منصوبہ امریکی قوانین اور خلائی کمیونیکیشن کے اصولوں کے تحت قابل قبول ہے یا نہیں۔ اس طرح کے منصوبے خلائی وسائل کے انتظام، سگنل کے مداخلت کے خطرات اور قومی سلامتی کے پہلوؤں کے تناظر میں بہت حساس سمجھے جاتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نئے اور جدید حل تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ مدار میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے سے نہ صرف زمین پر انفراسٹرکچر کے دباؤ میں کمی آئے گی بلکہ اے آئی کی پروسیسنگ کی رفتار اور کارکردگی میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
اب جبکہ ایف سی سی نے اس منصوبے کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، مستقبل میں اس کی منظوری یا ردعمل کا فیصلہ آنے والے مہینوں میں سامنے آئے گا، جو کہ خلائی کمیونیکیشن اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نمایاں پیش رفت ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt