ایف بی آئی نے امریکہ بھر میں اے ٹی ایم جیک پاٹنگ حملوں میں غیر معمولی اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 2025 میں ملک بھر میں 700 سے زائد ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جن کے نتیجے میں 20 ملین ڈالر سے زائد نقدی کا نقصان ہوا۔ یہ حملے اس طریقے سے کیے جاتے ہیں کہ مجرموں نے اے ٹی ایم مشینوں تک جسمانی رسائی حاصل کر کے خاص قسم کا مالویئر انسٹال کر دیا، جو بینک کی اجازت کے بغیر مشین کو زبردستی رقم نکالنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
اس قسم کے جرائم میں ملوث 93 افراد کو وفاقی حکام نے گرفتار کیا ہے جن میں سے اکثر وینزویلا کی ایک گینگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گروہ جدید تکنیکی طریقوں سے اے ٹی ایم کی سیکیورٹی کو متاثر کر کے لاکھوں ڈالر کی چوری کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بینکوں کو سخت حفاظتی اقدامات اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اس بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اے ٹی ایم جیک پاٹنگ ایک جدید سائبر کرائم کا طریقہ ہے جس میں ہیکرز یا مجرم اے ٹی ایم کی اندرونی سافٹ ویئر یا ہارڈ ویئر کو متاثر کر کے مشین کو رقم نکالنے کے لیے مجبور کرتے ہیں، بغیر کسی بینک کی منظوری کے۔ اس سے نہ صرف مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ صارفین کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ بینکنگ سیکٹر میں اس قسم کے حملوں کی روک تھام کے لیے جدید حفاظتی ٹیکنالوجیز اور سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔
آنے والے وقت میں بھی اس قسم کے حملوں میں اضافہ کا خدشہ ہے اگر بینک انتظامیہ اور حکومتی ادارے فوری اور مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کریں۔ صارفین کو بھی چاہیے کہ وہ اے ٹی ایم استعمال کرتے وقت محتاط رہیں اور مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں تاکہ مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance