یورپی یونین نے روسی اداروں کے ساتھ تمام کرپٹو لین دین پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی

زبان کا انتخاب

یورپی یونین کے قانون سازوں نے روسی اداروں کے ساتھ کرپٹو کرنسی کے ذریعے کسی بھی قسم کے لین دین کو غیر قانونی قرار دینے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ روس پر عائد پابندیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد روس کی جانب سے کرپٹو کرنسی کے استعمال کے ذریعے پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کو روکنا ہے۔
کرپٹو کرنسیز، جیسے کہ بٹ کوائن اور ایتھیریم، دنیا بھر میں مالی لین دین کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، ان کا غیر مرکزی اور نیم شفاف نوعیت کا ہونا انہیں پابندیوں کی خلاف ورزی کے لیے ایک ممکنہ ذریعہ بنا سکتا ہے۔ خاص طور پر روس کی جانب سے مغربی پابندیوں کی تلافی کے لیے کرپٹو کرنسی کا استعمال تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
یورپی یونین کے اس منصوبے کے تحت، تمام ممبر ممالک میں موجود افراد اور ادارے روسی طرف سے چلنے والے کرپٹو اکاؤنٹس یا دیگر کرپٹو اثاثوں کے ساتھ لین دین کرنے سے روک دیے جائیں گے۔ اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ روس کی مالیاتی سرگرمیوں پر پابندیاں سخت ہوں گی اور اس کی معیشت پر دباؤ بڑھے گا۔
یہ اقدام عالمی سطح پر اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش ہے، جس کا مقصد روس کی جانب سے شاملیت اور فوجی کارروائیوں کو محدود کرنا ہے۔ اگر یہ تجویز پارلیمنٹ میں منظور ہو جاتی ہے تو یہ یورپی یونین کی جانب سے کرپٹو کرنسی کے استعمال پر زیادہ کنٹرول اور نگرانی کا ایک اہم قدم ہوگا۔
تاہم، کرپٹو کرنسی کے غیر مرکزی اور عالمی نوعیت کے پیش نظر، اس پابندی کے نفاذ اور نگرانی میں کئی چیلنجز کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس قسم کے اقدامات سے کرپٹو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش