ایتھیریم کے وائٹ ہیکر وِٹالک بوترین نے ڈی سینٹرلائزڈ آٹونومس آرگنائزیشنز (DAO) کی حکمرانی کو نئے سرے سے بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ’اسٹیورڈز‘ تجویز کیے ہیں۔ یہ نظام ووٹرز کی شناخت اور حساس معلومات کی حفاظت کے لیے جدید تکنیکی حل جیسے زیرو-نالج پروفز اور محفوظ ماحول (MPC/TEEs) استعمال کرے گا تاکہ ووٹروں پر دباؤ ڈالنے یا رشوت کے امکانات کو روکا جا سکے۔

زبان کا انتخاب

DAO ایک قسم کی خودکار تنظیم ہوتی ہے جو بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتی ہے، اور اس میں فیصلہ سازی کمیونٹی کے ممبران کے ووٹوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایتھیریم بلاک چین پر DAO کا تصور خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاں بہت سی کمیونٹیز اور پروجیکٹس بغیر کسی مرکزی اتھارٹی کے بیک وقت کام کرتے ہیں۔ تاہم، حکمرانی کے موجودہ نظام میں ووٹنگ کے عمل میں دھوکہ دہی، شناخت کا افشاء، اور حکومتی دباؤ جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔
وِٹالک بوترین نے اپنی تجویز میں بتایا ہے کہ AI ’اسٹیورڈز‘ ایک خود مختار اور شفاف طریقہ کار فراہم کریں گے جو ووٹنگ کے عمل کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ حکمرانی کے معیار کو بہتر بنائیں گے۔ یہ ’اسٹیورڈز‘ ووٹرز کی شناخت کو خفیہ رکھتے ہوئے فیصلے لینے کے عمل کو خودکار اور مؤثر بنائیں گے۔ اس اقدام سے DAO کی حکمرانی میں شفافیت اور اعتماد بڑھنے کی توقع ہے، خاص طور پر جب عالمی سطح پر ڈی سینٹرلائزڈ گورننس کا دائرہ وسیع ہورہا ہے۔
ایتھیریم کمیونٹی میں یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ڈی سینٹرلائزڈ گورننس کے نظام کو مزید مؤثر اور محفوظ بنانے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ کئی سالوں میں DAO نے مالیاتی، سماجی اور تکنیکی شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، لیکن حکمرانی کے مسائل نے اس کی ترقی میں رکاوٹیں بھی پیدا کی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ان مسائل کو حل کرنے کا تصور مستقبل میں بلاک چین کی دنیا میں نیا انقلاب لا سکتا ہے۔
اگرچہ یہ نظام ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس کی کامیابی سے نہ صرف ایتھیریم بلکہ دیگر بلاک چین پلیٹ فارمز پر بھی حکمرانی کے نظام میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ تاہم، اس میں تکنیکی اور اخلاقی پیچیدگیوں کا سامنا رہ سکتا ہے جن کا حل تلاش کرنا ضروری ہوگا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تلاش