ایتھیریم بلاک چین نے اپنی رفتار میں نمایاں بہتری دکھائی ہے اور جنوری میں اس کے روزانہ فعال پتے بڑی لیئر-2 نیٹ ورکس سے آگے نکل گئے ہیں۔ اس دوران، کم فیس کی وجہ سے آن چین سرگرمی میں اضافہ ہوا ہے جو اس نیٹ ورک کی مقبولیت اور استعمال میں اضافے کا عندیہ دیتا ہے۔ لیئر-2 سلوشنز، جو ایتھیریم کی بنیادی بلاک چین کے اوپر بنائے جاتے ہیں، ٹرانزیکشن کی رفتار بڑھانے اور لاگت کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، مگر حالیہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ ایتھیریم بلاک چین نے خود اپنی رفتار میں بھی نمایاں ترقی کی ہے۔
ایتھیریم، جو کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ہے، بلاک چین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کام کرتا ہے جہاں صارفین ڈیجیٹل لین دین بغیر کسی درمیانی فریق کے انجام دیتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں، نیٹ ورک پر ٹرانزیکشن فیس میں اضافہ اور رفتار کی محدودیت نے صارفین کو لیئر-2 نیٹ ورکس کی جانب مائل کیا تھا۔ تاہم، جنوری میں کم فیس کے باعث صارفین دوبارہ براہ راست ایتھیریم بلاک چین پر سرگرم ہو گئے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایتھیریم نے اپنی بنیادی ڈھانچے میں کچھ بہتریاں کی ہیں جو اسے لیئر-2 نیٹ ورکس کے مقابلے میں زیادہ موثر بنا سکتی ہیں۔
یہ بہتریاں بلاک چین کی سیکیورٹی اور غیر مرکزی نوعیت کو متاثر کئے بغیر کی گئی ہیں، جو ایتھیریم کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں، جیسے کہ نیٹ ورک پر بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث دوبارہ فیس میں اضافے کا خطرہ اور اس بات کا امکان کہ لیئر-2 نیٹ ورکس کی اہمیت کم ہو جائے۔
مستقبل میں، ایتھیریم کی ٹیم مزید اپ گریڈز پر کام کر رہی ہے تاکہ نیٹ ورک کی کارکردگی اور استحکام کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ایتھیریم 2.0 جیسے بڑے اپ ڈیٹس بھی زیر غور ہیں جو نیٹ ورک کی اسکال ایبلیٹی اور ماحول دوست ہونے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ان پیش رفتوں سے نہ صرف ایتھیریم کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا بلکہ یہ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں بلاک چین ٹیکنالوجی کی ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk