کریپٹو کرنسی مارکیٹ میں ہفتے کے اختتام پر ایک بڑی فروخت دیکھی گئی جس کے نتیجے میں ایتھر (ETH)، سولانا (SOL) اور ڈوج کوائن (DOGE) کی قیمتوں میں تقریباً سات فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس دوران تقریباً 850 ملین ڈالر مالیت کے بلش بیٹس (لمبے پوزیشنز) لیکویڈیٹ ہو گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں دباؤ صرف بٹ کوائن تک محدود نہیں رہا بلکہ دیگر اہم کرپٹو کرنسیز پر بھی اثر پڑا ہے۔
یہ لیکویڈیشنز مستقبل کے معاہدوں (فیوچرز) کی مارکیٹ میں ہوئی ہیں، جہاں سرمایہ کار کرپٹو کرنسیز کی قیمتوں کے بڑھنے کی شرط لگاتے ہیں۔ جب قیمتیں توقع کے برخلاف گرتی ہیں تو لمبی پوزیشن رکھنے والے سرمایہ کاروں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور ان کی پوزیشنز خودکار طریقے سے بند کر دی جاتی ہیں، جسے لیکویڈیشن کہتے ہیں۔ اس واقعے سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے جذبات میں تیزی سے تبدیلی کا پتہ چلتا ہے۔
ایتھر اور سولانا جیسی کرپٹو کرنسیز حالیہ برسوں میں اپنی تیز رفتاری کے باعث سرمایہ کاروں میں خاصی مقبول ہو چکی ہیں۔ ایتھر ایک سمارٹ کانٹریکٹ پلیٹ فارم ہے جو ڈی سینٹرلائزڈ ایپلیکیشنز کی میزبانی کرتا ہے، جبکہ سولانا اپنی تیز رفتار اور کم فیس کی وجہ سے ڈی سینٹرلائزڈ فائنانس (DeFi) کے شعبے میں جانی جاتی ہے۔ ڈوج کوائن، جو ابتدا میں مزاحیہ کرپٹو کرنسی کے طور پر شروع ہوئی، اب ایک معروف اور وسیع پیمانے پر قبول شدہ کرپٹو کرنسی بن چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فیوچرز مارکیٹ میں یہ قسم کی لیکویڈیشنز عام طور پر ایک بڑے مارکیٹ کرشمے یا قیمتوں کی تیزی سے تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کی اس قسم کی غیر مستحکم صورتحال میں احتیاط سے کام لیں کیونکہ ایسی صورتحال میں قیمتیں مزید نیچے جا سکتی ہیں یا مارکیٹ میں اچانک اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، یہ واقعہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی موجودہ نازک حالت کی عکاسی کرتا ہے جہاں قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہا ہے اور مارکیٹ کی سمت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk