ایرک ٹرمپ نے اس بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کی ہے کہ عالمی سطح پر فیاٹ کرنسیوں کی غیر مستحکم صورتحال کے باعث خودمختار دولت فنڈز اب کرپٹو کرنسیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ NS3.AI کے مطابق، انہوں نے بتایا کہ ترقی پذیر دنیا میں کرپٹو کرنسیوں کی طلب امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی اقتصادی عدم استحکام کے پیش نظر مالیاتی ادارے زیادہ قابل اعتماد اثاثے تلاش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں کرپٹو کرنسیاں ان کے لیے ایک متبادل بن چکی ہیں۔
خودمختار دولت فنڈز ایسے سرکاری سرمایہ کاری کے ادارے ہوتے ہیں جو ملکی دولت کو مختلف مالیاتی اثاثوں میں لگاتے ہیں تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ روایتی طور پر یہ فنڈز سونے، بانڈز یا دیگر محفوظ اثاثوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، لیکن حالیہ مالیاتی عدم استحکام نے انہیں نئے متبادل کی تلاش پر مجبور کیا ہے۔ کرپٹو کرنسیوں کی مقبولیت میں اضافہ اس لیے ہوا ہے کیونکہ یہ غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں زیادہ شفاف اور عالمی سطح پر آسانی سے قابل تبادلہ ہیں۔
ترقی پذیر ممالک میں کرپٹو کرنسیوں کی مانگ زیادہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان ممالک کی اقتصادی صورتحال زیادہ غیر مستحکم ہوتی ہے اور وہاں کی کرنسیاں اکثر گھٹتی قیمت کا سامنا کرتی ہیں۔ اس لیے سرمایہ کار کرپٹو کرنسیوں کو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ میں روایتی مالیاتی نظام کی مضبوطی کی وجہ سے کرپٹو کرنسیوں کی مقبولیت نسبتا کم ہے۔
اگرچہ کرپٹو کرنسیاں مالیاتی عدم استحکام کے خلاف ایک متبادل فراہم کرتی ہیں، مگر ان میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ اور قانونی پیچیدگیاں بھی سرمایہ کاری کے لیے خطرات کا باعث ہو سکتی ہیں۔ اس لیے خودمختار دولت فنڈز کو اپنے سرمایہ کاری کے فیصلے کرتے وقت محتاط تجزیہ اور حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance