ایکونور کی چوتھی سہ ماہی کی آمدنی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث 32 فیصد کمی

زبان کا انتخاب

ناروے کی توانائی کی بڑی کمپنی ایکونور نے اپنی چوتھی سہ ماہی کی آمدنی میں 32 فیصد کی کمی کا اعلان کیا ہے، جو تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یہ کمپنی یورپ کی پہلی بڑی توانائی کمپنی ہے جس نے اپنی سہ ماہی آمدنی رپورٹ کی ہے، جو آنے والے مالیاتی سیزن کے رجحانات کا تعین کر سکتی ہے۔ ایکونور کی کارکردگی پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا گہرا اثر پڑا ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں اضافے کے سبب ہوئی ہے۔
کمپنی کی ایڈجسٹ شدہ پوسٹ ٹیکس آپریٹنگ منافع گزشتہ سال کی اسی مدت میں 2.29 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.55 ارب ڈالر رہ گیا، جو کہ ماہرین کی اوسط توقع 1.59 ارب ڈالر سے بھی نیچے ہے۔ اس کے علاوہ، ایکونور نے 2026 میں 1.5 ارب ڈالر کے اسٹاک بائیک بیک کی منصوبہ بندی کا بھی اعلان کیا ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
گزشتہ سال عالمی تیل کی قیمتوں میں 2020 کے بعد سب سے بڑی سالانہ کمی دیکھی گئی، اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ تیل کی فراہمی کے اضافے کی وجہ سے یہ دباؤ 2026 تک جاری رہ سکتا ہے۔ یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی گزشتہ سال نمایاں کمی آئی، جو بحری راستوں سے سپلائی میں اضافے کی بدولت ممکن ہوئی۔
ایکونور نے اپنی پیداوار میں اضافہ کر کے تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کو کچھ حد تک کم کیا ہے، خاص طور پر ناروے میں اپنے گھریلو اور بیرون ملک تیل کے میدانوں میں پیداوار بڑھائی گئی ہے۔ توانائی کے عالمی بازار میں قیمتوں کی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے کمپنیوں کو اپنی حکمت عملی میں لچک دکھانی پڑ رہی ہے تاکہ منافع کو مستحکم رکھا جا سکے۔
اس صورتحال میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی یا عالمی فراہمی میں غیر متوقع تبدیلیاں توانائی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں، جس کا امکان آنے والے مالیاتی سیزن میں واضح ہوگا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے