عالمی معیشت پر گلوبلائزیشن اور پاپولزم کے منفی اثرات کا انتباہ

زبان کا انتخاب

معروف ماہر اقتصادیات ایسوار پراساد نے گلوبلائزیشن اور پاپولزم کے مابین منفی تعلقات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ دونوں عوامل ایک دوسرے کے منفی اثرات کو بڑھاوا دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں عالمی استحکام اور معاشی ترقی کو سنگین خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ گلوبلائزیشن، جو کہ عالمی معیشت کو ترقی دینے کا ذریعہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ عدم مساوات اور سماجی بے چینی کو بھی جنم دیتا ہے۔ پاپولسٹ تحریکیں اکثر اسی بے چینی کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کرتی ہیں، جس سے ایک ‘دوم لوپ’ یا تباہ کن چکر پیدا ہوتا ہے۔
یہ صورتحال عالمی سطح پر پالیسی سازوں کے لیے چیلنجز کھڑی کرتی ہے کہ وہ توازن قائم کرتے ہوئے ایسے اقدامات کریں جو سماجی اور اقتصادی استحکام کو فروغ دے سکیں۔ گلوبلائزیشن کے مثبت پہلوؤں میں عالمی تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہیں جس سے کئی ممالک کی معیشتیں ترقی کرتی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی بڑھتی ہوئی اقتصادی غیر مساوات اور مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچنے کے خدشات بھی نمایاں ہوتے ہیں۔
پاپولزم، جس کا مطلب عوامی جذبات کو بنیاد بنا کر سیاسی مقبولیت حاصل کرنا ہے، اکثر پیچیدہ معاشی مسائل کو سادہ اور جذباتی بیانات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو طویل مدتی پالیسیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی تعاون کمزور پڑتا ہے اور تجارتی و سیاسی تنازعات میں اضافہ ہوتا ہے۔
ایسوار پراساد کی تنبیہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر عالمی برادری نے متوازن اور پائیدار ترقی کے لیے مؤثر حکمت عملی نہ اپنائی تو عالمی معیشت کو طویل مدتی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ معاشی پالیسیز میں شمولیت، مساوات اور سماجی انصاف کو فروغ دیا جائے تاکہ گلوبلائزیشن اور پاپولزم کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے