نومورا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر اقتصادیات تاکاہیدے کیوچی نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ایران کے گرد بڑھتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی تناؤ کے باعث جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائچی کی خوراک پر سیلز ٹیکس معطل کرنے کی تجویز کو تقویت مل سکتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی اور ممکنہ معاشی سست روی کا مقابلہ کرنا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر عالمی معیشت پر نمایاں ہوتا ہے، خاص طور پر اُن ممالک میں جو تیل کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں، جیسے کہ جاپان۔ اس صورتحال میں خوراک پر سیلز ٹیکس معطل کرنا صارفین کی قوت خرید کو سہارا دینے اور مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم کیوچی نے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس میں کمی مہنگائی کو فوری طور پر کنٹرول کرنے میں محدود اثر رکھتی ہے، اس لیے حکومت ممکنہ طور پر گھریلو صارفین کو براہ راست نقد امداد فراہم کرنے کا بھی سوچ رہی ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق، جاپان کی معیشت پہلے ہی عالمی اقتصادی چیلنجز اور بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں سے متاثر ہے، اور ایران کے ساتھ کشیدگی مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ اس پیش منظر میں جاپان کا مرکزی بینک بھی سود کی شرحوں میں اضافے کے معاملے میں احتیاط برتنے کا امکان رکھتا ہے تاکہ معیشت پر منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
خوراک پر سیلز ٹیکس معطل کرنے کی تجویز جاپان میں عوامی حمایت حاصل کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی کی شرح بڑھ رہی ہے اور صارفین کو روزمرہ کی ضروریات کی اشیاء مہنگی پڑ رہی ہیں۔ تاہم اس اقدام کا مستقل اثر معیشت پر اس بات پر منحصر ہوگا کہ حکومت دیگر مالیاتی اور معاشی اصلاحات کو کس طرح نافذ کرتی ہے تاکہ مجموعی معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance