ڈالر کی مضبوطی اور قرض کے خدشات کے باعث مارکیٹس پر دباؤ، کیا کرپٹو مارکیٹ میں ساختی تبدیلی آ رہی ہے؟

زبان کا انتخاب

عالمی کرپٹو کرنسی مارکیٹ کا کل سرمایہ 2.31 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے جہاں گذشتہ 24 گھنٹوں میں مارکیٹ میں 1.12 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بٹ کوائن (BTC) کی قیمت بھی اتار چڑھاؤ کے بعد 67,152 ڈالر کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے جو 0.94 فیصد کی معمولی بڑھوتری کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، دیگر بڑی کرپٹو کرنسیاں مکس پرفارمنس کا مظاہرہ کر رہی ہیں، جن میں BIO، ENSO اور SNX قابل ذکر ہیں جن کی قیمتوں میں بالترتیب 45، 39 اور 23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
بینانس ایکسچینج نے اپنی مستحکم کرنسی کی لیکویڈیٹی میں 65 فیصد حصہ حاصل کر لیا ہے، جو سرمایہ کاری کی مرکزیت کی ایک نشانی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کے امکانات کم ہو گئے ہیں کیونکہ ملک میں مہنگائی کی شرح برقرار ہے اور GDP کی نمو میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
بٹ کوائن کے حوالے سے وال اسٹریٹ میں ای ٹی ایف (ETF) میں سرمایہ کاری کے مثبت اشارے مل رہے ہیں، جبکہ Bitwise نے امریکی انتخابات پر مرکوز چھ پیش گوئی والے شیئرز کے لیے ای ٹی ایف کی درخواست دی ہے۔ امریکہ کے قرض کے بڑھتے ہوئے حجم نے اقتصادی خدشات کو جنم دیا ہے، جس کا اثر عالمی مالیاتی منڈیوں پر پڑ رہا ہے۔
جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث ڈالر نے حالیہ چار ماہ میں اپنی سب سے مضبوط کارکردگی دکھائی ہے۔ اس دوران، ٹیکنالوجی کمپنی NVIDIA نے OpenAI میں 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے قریب ہے، جو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑی پیش رفت کی علامت ہے۔
مجموعی طور پر، عالمی مالیاتی مارکیٹس میں کرپٹو کرنسیاں اور دیگر مالیاتی اثاثے ڈالر کی مضبوطی اور قرض کے بڑھتے ہوئے خدشات کے زیر اثر ہیں، جس کی وجہ سے لیکویڈیٹی کے کلسترز بننے اور ممکنہ ساختی تبدیلی کے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں۔ سرمایہ کار اس صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں تاکہ آئندہ کے مالی حالات کا اندازہ لگا سکیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے