آن لائن کمیونیکیشن پلیٹ فارم ڈسکارڈ نے صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے چہرے کی شناسی اور شناختی دستاویزات کی سکیننگ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ اقدام صارفین کی حفاظت کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے نگرانی کو معمول بنانا آسان ہو جائے گا جو کہ پرائیویسی کے لیے خطرہ ہے۔
ڈسکارڈ کو خاص طور پر بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیز سے متعلق گروپس میں ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے جہاں لوگ اپنی معلومات اور خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اگرچہ صارف کی شناخت کی تصدیق، جسے کے وائی سی (Know Your Customer) کہا جاتا ہے، قانونی اور محفوظ مقاصد کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کے نفاذ سے صارفین کی ذاتی معلومات پر قابو بڑھتا ہے اور ہر نیا ضابطہ مستقبل میں مزید کڑی نگرانی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
اس تبدیلی کے خلاف صارفین اور پرائیویسی کے حامیوں کی تشویش یہ ہے کہ یہ ایک ایسا قدم ہے جس سے طاقت کا ارتکاز بڑھتا ہے، خواہ وہ حکومت ہو، بڑی کمپنیاں یا آن لائن پلیٹ فارمز۔ ڈسکارڈ کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی ناگزیر ہے اور وہ صارفین کی حفاظت کے لیے کی جا رہی ہے، مگر اس کے ساتھ ہی یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ جمع کی گئی معلومات کسی بھی وقت لیک ہو سکتی ہیں۔
متبادل کے طور پر، اوپن سورس پلیٹ فارمز جیسے فیدی (Fedi) اور نوستر (Nostr) سامنے آئے ہیں جو صارفین کو اپنی شناخت پر مکمل کنٹرول دیتے ہیں اور شناختی تصدیق یا بایومیٹرکس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ پلیٹ فارمز صارف کی پرائیویسی کو ترجیح دیتے ہیں اور انہیں کسی بھی کمپنی کے قبضے سے آزاد رکھتے ہیں۔
یہ رجحان صرف ڈسکارڈ تک محدود نہیں بلکہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام بھی شناختی تصدیق کے نظام کو بڑھا رہے ہیں، جس سے آن لائن کمیونٹیز میں شرکت کے لیے دستاویزات کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں، بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کمیونٹیز اپنے پلیٹ فارمز کو ایسے متبادل نظاموں کی طرف منتقل کر رہی ہیں جو صارفین کی خودمختاری کو یقینی بنائیں۔
یہ تبدیلیاں صارفین کے حقوق اور آزادی کے لیے اہم سنگ میل ہیں، جن کا مقصد آن لائن دنیا میں پرائیویسی اور خود مختاری کو برقرار رکھنا ہے، تاکہ کوئی بھی پلیٹ فارم صارفین کو غیر ضروری نگرانی کا نشانہ نہ بنا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine