جمہوری سینیٹرز نے کریپٹو کرنسی قوانین میں نرمی پر وزارت انصاف کے نائب پر دباؤ بڑھا دیا

زبان کا انتخاب

امریکہ میں چند جمہوری سینیٹرز نے وزارت انصاف سے کریپٹو کرنسی سے متعلق ان کے رویے پر وضاحت طلب کی ہے، خاص طور پر جب کریپٹو کرنسی کے حوالے سے نافذ کیے گئے قوانین میں نرمی دیکھی گئی ہے۔ ان سینیٹرز کا کہنا ہے کہ وزارت انصاف کے بعض اعلیٰ حکام کی ذاتی اور مالی دلچسپیاں اس نرمی میں کردار ادا کر سکتی ہیں، جس سے اخلاقی سوالات جنم لیتے ہیں۔
کریپٹو کرنسی، جیسے کہ بٹ کوائن اور ایتھیریم، نے گزشتہ دہائی میں مالیاتی دنیا میں ایک انقلاب برپا کیا ہے اور کئی ممالک میں اس کے قوانین مرتب کیے گئے ہیں تاکہ بدعنوانی، فراڈ اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم کو روکا جا سکے۔ امریکہ میں بھی وزارت انصاف اور دیگر ریگولیٹری ادارے نے کریپٹو مارکیٹ کی نگرانی کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ تاہم، حالیہ دنوں میں کچھ معاملات میں ان قوانین پر عمل درآمد میں نرمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں بے یقینی پھیلی ہے۔
یہ نرمی اس وقت سامنے آئی ہے جب کچھ وزارت انصاف کے اعلیٰ حکام کے کریپٹو اثاثے رکھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کی وجہ سے یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ ممکنہ طور پر ذاتی مفادات کی بنا پر قانون نافذ کرنے میں سستی برتی جا رہی ہے۔ جمہوری سینیٹرز نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور عوام کا اعتماد بحال رہے۔
کریپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور اس کے قوانین کا واضح ہونا سرمایہ کاروں اور صارفین کے لیے نہایت اہم ہے۔ اگر وزارت انصاف کی جانب سے قانون نافذ کرنے میں مزید نرمی کی گئی تو اس سے کریپٹو کرنسی مارکیٹ میں منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے مالیاتی نظام میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے۔
آنے والے دنوں میں اس معاملے کی تحقیقات اور قانونی کارروائیوں کا رخ واضح ہوگا، جس پر مالیاتی دنیا کی نگاہیں مرکوز ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش