امریکہ کے ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلیومن تھل نے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس کے خلاف ایران سے منسلک مبینہ کرپٹو ٹرانسفرز کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس تحقیقات کا دائرہ تقریباً 1.7 ارب ڈالر کے مالیاتی لین دین پر محیط ہے، جس میں الزام ہے کہ بائننس نے ایران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم، بائننس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ تمام قوانین اور ضوابط کی مکمل پاسداری کرتا ہے۔
بائننس دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ایکسچینج خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ہے، جو صارفین کو مختلف ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس کی عالمی سطح پر بہت بڑی مارکیٹ شیئر ہے اور یہ کرپٹو کرنسی کی صنعت میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک کے حکام نے حالیہ برسوں میں کرپٹو کرنسی کے استعمال پر نظرثانی اور سختی میں اضافہ کیا ہے تاکہ غیر قانونی مالی سرگرمیوں جیسے منی لانڈرنگ اور پابندیوں کی خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔
ایران پر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے طویل عرصے سے پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں، جن کا مقصد ملک کی جوہری سرگرمیوں اور دیگر سیاسی اقدامات کو محدود کرنا ہے۔ ان پابندیوں کے تحت ایران کے ساتھ مالی لین دین پر سخت پابندیاں ہیں۔ اس پس منظر میں بائننس پر ایران سے منسلک کرپٹو کرنسی ٹرانزیکشنز کا الزام ایک سنجیدہ معاملہ سمجھا جا رہا ہے جس کا اثر کرپٹو کرنسی مارکیٹ اور بین الاقوامی مالیاتی نظام پر بھی پڑ سکتا ہے۔
اگر تحقیقات میں بائننس پر پابندیوں کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو اس سے کمپنی کو بھاری جرمانے اور قانونی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، اور یہ کرپٹو کرنسی کے شعبے میں ضابطہ کاری کے حوالے سے بھی ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، بائننس کی جانب سے اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اور کمپنی نے کہا ہے کہ وہ تمام قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کرتا ہے۔
یہ کیس کرپٹو کرنسی اور بین الاقوامی پابندیوں کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے جس کی نگرانی مالیاتی ماہرین، قانون سازوں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے کی جا رہی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt