ڈی سینٹرلائزڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے میدان میں حالیہ دنوں میں کچھ سست روی دیکھی گئی ہے، تاہم کرپٹو وینچر کیپیٹل فنانسرز (وی سیز) کا کہنا ہے کہ اس میں اب بھی اہم اور حقیقی مواقع موجود ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ زیادہ ہائپ شدہ جی پی یو مارکیٹ پلیسز اور بڑے اے آئی ماڈلز کی متبادل راہوں سے ہٹ کر ایسے مکمل حل کی طرف توجہ دی جائے جو خاص مقاصد کے لئے بنائے گئے ہوں۔
ڈی سینٹرلائزڈ اے آئی کا مقصد روایتی مرکزی نظاموں سے ہٹ کر ایک ایسا ماحولیاتی نظام تخلیق کرنا ہے جہاں مختلف اے آئی ماڈلز، ڈیٹا اور کمپیوٹیشنل ریسورسز بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ اور شفاف انداز میں منظم ہوں۔ اس میں صارفین اور ڈویلپرز کو زیادہ آزادی اور کنٹرول فراہم کیا جاتا ہے، جس سے ڈیٹا پر انحصار کم ہوتا ہے اور پرائیویسی کے مسائل بھی کم ہوتے ہیں۔
گذشتہ چند سالوں میں جی پی یو بیسڈ مارکیٹ پلیسز اور بڑے اے آئی ماڈلز نے بہت توجہ حاصل کی، لیکن ان کی پیچیدگی اور مہنگائی نے انہیں عام صارفین اور چھوٹے ڈویلپرز کے لیے کم قابل رسائی بنا دیا۔ اس وجہ سے اب سرمایہ کار اور ماہرین زیادہ عملی اور مقصد پر مبنی فل اسٹیک حل کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں جو نہ صرف توسیع پذیر ہوں بلکہ مختلف صنعتوں کی مخصوص ضروریات کو بھی پورا کر سکیں۔
کرپٹو وی سیز کے مطابق یہ رجحان ڈیسینٹرلائزڈ اے آئی کے میدان میں ایک نئے دور کی شروعات کا پیش خیمہ ہے جہاں ٹیکنالوجی کے استعمال میں تنوع اور جدت آئے گی۔ اس سے نہ صرف ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ مختلف شعبے جیسے صحت، مالیات اور تعلیم میں بھی انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
اگرچہ یہ شعبہ ابھی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہے اور کئی تکنیکی و مالی چیلنجز درپیش ہیں، مگر سرمایہ کاری اور تحقیق میں اضافے کے باعث مستقبل میں ڈی سینٹرلائزڈ اے آئی کے امکانات روشن نظر آتے ہیں۔ اس میں بلاک چین کے ذریعے شفافیت اور سیکورٹی کو یقینی بنانا، اور صارفین کو بہتر تجربہ فراہم کرنا کلیدی رول ادا کرے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk