دائیوا سیکیورٹیز کے ماہرین اقتصادیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ جاپان کا مرکزی بینک رواں سال اپریل سے جون کے درمیان اپنی پالیسی شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے، جو پہلے کے اندازوں کے برعکس ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مالیاتی توسیع اور ین کی کمزوری نے مارکیٹ میں مہنگائی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کی بنیاد پر شرح سود میں جلد از جلد اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
بینک آف جاپان کے گورنر کازوئو اُیدا نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اپریل میں جاپانی کمپنیوں کی قیمتوں میں رد و بدل پر گہری نظر رکھیں گے، جو شرح سود کے مستقبل کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مرکزی بینک کی شاخوں کے مینیجرز کی میٹنگ اور ٹوکیو میں اپریل کا صارف قیمت اشاریہ (CPI) بھی اگلے سود کی شرح کے فیصلے کے لیے اہم عوامل ہوں گے۔
بینک آف جاپان کی ماضی کی پالیسیوں پر نظر ڈالیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے طویل عرصے تک کم شرح سود کو برقرار رکھا تاکہ معیشت کی بحالی کو سہارا دیا جا سکے۔ تاہم، حالیہ مہنگائی میں اضافہ اور عالمی معیشت میں بدلاؤ نے اس پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت پیدا کر دی ہے۔ سود کی شرح میں اضافہ کرنے کا مقصد مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور مالی استحکام کو یقینی بنانا ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ خدشہ بھی رہتا ہے کہ شرح سود میں اضافہ معیشت کی نمو کو سست کر سکتا ہے۔
آئندہ مہینوں میں، اگر مرکزی بینک نے شرح سود میں اضافہ کیا تو اس کا اثر مقامی اور عالمی مالیاتی بازاروں پر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر کرنسی مارکیٹ اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر۔ اس کے علاوہ، جاپانی صارفین اور کاروباری اداروں کی مالی حالت پر بھی اس فیصلے کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے مارکیٹ کے شرکا اور سرمایہ کاروں کے لیے مرکزی بینک کے اعلانات اور اقتصادی اعداد و شمار پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہو گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance