اکتوبر کی دسویں تاریخ کو ہونے والے بڑے لیکویڈیشن واقعات کے کئی ماہ بعد بھی کرپٹو مارکیٹ کی گہرائی بحال نہیں ہو سکی ہے اور بٹ کوائن کی قیمت مسلسل گرتی جا رہی ہے۔ اس دوران تجارتی حلقے بائننس کے کردار کو لے کر متفرق آراء پھیلا رہے ہیں، کیونکہ سرمایہ کار اور تجزیہ کار اس بڑے نقصان کی ذمہ داری اس معروف کرپٹو کرنسی ایکسچینج پر عائد کر رہے ہیں۔
بائننس دنیا کا سب سے بڑا کرپٹو کرنسی ایکسچینج ہے جو عالمی سطح پر لاکھوں صارفین کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ اکتوبر میں پیش آنے والی لیکویڈیشن کی صورت حال میں کئی بڑے اور اہم کرپٹو اثاثے جیسے بٹ کوائن شدید دباؤ کا شکار ہوئے، جس کے باعث مارکیٹ میں بھاری خسارے اور سرمایہ کاروں میں بے چینی پھیل گئی۔ لیکویڈیشن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کی تیز گراوٹ کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو اپنی پوزیشنز بند کرنی پڑتی ہیں، جو مزید قیمت کم ہونے کا باعث بنتی ہے۔
اس بحران کے فوری اثرات میں مارکیٹ کی گہرائی میں کمی، لیکویڈ ہونے والے اثاثوں کی تعداد میں اضافہ اور تجارتی سرگرمیوں میں کمی شامل ہے۔ بائننس پر تنقید کی بنیاد یہ ہے کہ اس کی پالیسیوں اور لیکویڈیشن میکانزم نے مارکیٹ کی غیر مستحکم صورتحال کو بڑھاوا دیا، جس سے بڑے مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے واقعات کرپٹو مارکیٹ کی فطری خصوصیت ہیں اور بائننس جیسے پلیٹ فارمز کا کردار صرف سہولت فراہم کرنا ہے۔
بٹ کوائن کی قیمتوں میں مسلسل کمی اور مارکیٹ کی کمزور صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ آئندہ کے لیے خطرات میں مزید قیمتوں کی گراوٹ، مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاری میں کمی شامل ہو سکتی ہے۔ مارکیٹ کی بازیابی کے لیے حکومتی ضوابط، بہتر ریگولیشنز اور صارفین کے اعتماد کی بحالی ضروری سمجھی جا رہی ہے تاکہ کرپٹو کرنسیز کی عالمی سطح پر قبولیت اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk