کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی مالیت 2.3 ٹریلین ڈالر سے تجاوز، سرمایہ کاروں میں خریداری کا رجحان بڑھا

زبان کا انتخاب

کرپٹو کرنسی کی عالمی مارکیٹ کی مجموعی مالیت نے حالیہ دنوں میں نمایاں بہتری دکھائی ہے اور تقریباً 2.0 ٹریلین ڈالر سے بڑھ کر 2.3 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بحالی کی ایک بڑی وجہ سرمایہ کاروں میں “خریداری کا موقع” (buy-the-dip) کے رجحان کا فروغ ہے، جس میں قیمتوں میں کمی کو سرمایہ کاری کے لیے سازگار موقع سمجھا جا رہا ہے۔
اس رجحان کی تصدیق کے لیے مختلف اشارے بھی سامنے آئے ہیں، جن میں خاص طور پر اسٹیبل کوائنز کی ایکسچینجز پر بڑھتی ہوئی آمدنی اور بڑے سرمایہ کاروں (وہیلز) کے ساتھ ساتھ عام سرمایہ کاروں کی بھی شدید خریداری شامل ہے۔ یہ عوامل مارکیٹ میں اعتماد کی تجدید کی علامت سمجھے جا رہے ہیں۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مارکیٹ کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ مجموعی مارکیٹ کی مالیت 2.3 ٹریلین ڈالر سے کم نہ ہو اور بٹ کوائن کی قیمت 71,000 ڈالر سے اوپر برقرار رہے۔ اگر یہ شرائط برقرار رہیں تو مارکیٹ 2.8 ٹریلین ڈالر کی منزل کی طرف بڑھ سکتی ہے، جو کہ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ حالیہ برسوں میں متعدد اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، جس کی وجہ عالمی مالیاتی حالات، ریگولیٹری خدشات، اور تکنیکی عوامل شامل ہیں۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں سرمایہ کاروں میں محتاط امیدواری پائی جاتی ہے، جو مارکیٹ کی استحکام کی تلاش اور ممکنہ نمو کے امکانات کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
یہ بحالی اس وقت ہوئی ہے جب دنیا بھر میں سرمایہ کار کرپٹو کرنسی کو طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھنے لگے ہیں اور مارکیٹ میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، کرپٹو مارکیٹ کی فطرت کے پیش نظر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ ہمیشہ موجود رہتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش