کرپٹو کرنسی کی دنیا میں سرمایہ کاروں کا خوف اس قدر بڑھ گیا ہے کہ یہ سطح آخری بار تب دیکھی گئی تھی جب 2022 میں مشہور کرپٹو پروجیکٹ ٹیرا کا اچانک زوال ہوا تھا۔ اس دوران مارکیٹ میں عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں عالمی معاشی دباؤ، جیسے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مرکزی بینکوں کی سخت مالی پالیسیوں، نے بھی کرپٹو مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
ٹیرا ایک ایسا پروجیکٹ تھا جو اپنی مستحکم کرپٹو کرنسی (اسٹیبل کوائن) کی بدولت مارکیٹ میں خاصی مقبولیت حاصل کر چکا تھا، لیکن اس کا اچانک گرانے سے پورے کرپٹو شعبے میں بھاری نقصان ہوا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوا۔ اب اسی طرح کے خوف کا رجحان دوبارہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا رجحان کم ہو رہا ہے اور کرپٹو اثاثوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب عالمی معاشی حالات غیر یقینی ہوں اور مالی منڈیوں میں دباؤ بڑھ جائے تو کرپٹو کرنسیاں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ یہ عام طور پر زیادہ خطرے والی سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہیں۔ اس وقت بھی، اگرچہ کرپٹو کرنسیوں کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
آگے چل کر اگر عالمی معاشی دباؤ کم نہ ہوا اور مالیاتی پالیسیاں نرم نہ ہوئیں تو کرپٹو مارکیٹ میں مزید مندی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے موقع پرست سرمایہ کار بھی داخل ہو سکتے ہیں جو کم قیمت پر خریداری کر کے مستقبل میں منافع کمانا چاہتے ہیں۔
کرپٹو کرنسیوں کی دنیا میں یہ کیفیت ایک یاد دہانی ہے کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری ہمیشہ خطرات کے ساتھ منسلک ہوتی ہے اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt