بٹ کوائن کی قیمت میں کمی، کرپٹو مارکیٹس میں دباؤ برقرار

زبان کا انتخاب

کرپٹوکرنسی مارکیٹس میں گزشتہ روز بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جو 63,000 ڈالر کی سطح پر گر گئی ہے۔ اس کے ساتھ امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ اور عالمی اسٹاک مارکیٹس کی کمزوری نے کرپٹو مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بٹ کوائن کی قیمت 60,000 ڈالر سے نیچے گر گئی تو اس سے مزید لیکویڈیشنز کا خطرہ ہے جو قیمت کو 52,500 ڈالر تک گرا سکتا ہے۔
بٹ کوائن دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے جس کی قیمت کی اتار چڑھاؤ عالمی مالیاتی منڈیوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں بٹ کوائن نے کئی بار اپنی قیمت کی بلند سطحوں کو چھوا لیکن عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، سود کی شرحوں میں تبدیلی اور دیگر عوامل کی وجہ سے اس کی قیمت میں تیزی سے اتار چڑھاؤ آ رہا ہے۔
کرپٹو مارکیٹس میں اس قسم کی کمی عموماً سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پیدا کرتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی سرمایہ کاری سے نکلنے لگتے ہیں۔ لیکویڈیشن کا مطلب ہے کہ مارکیٹ میں کھلے ہوئے پوزیشنز کو زبردستی بند کیا جاتا ہے، جس سے قیمتوں پر مزید دباؤ پڑتا ہے۔ اگر عالمی اقتصادی حالات میں بہتری نہ آئی تو بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسیز کی قیمتیں مزید نیچے جا سکتی ہیں، جس سے مارکیٹ میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔
یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاریوں کا جائزہ لیں اور مارکیٹ کی تبدیلیوں سے خبردار رہیں۔ کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی نوعیت کی وجہ سے قیمتوں میں اچانک تبدیلیاں معمول کی بات ہیں اور سرمایہ کاروں کو ہمیشہ محتاط رہنا چاہیے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش