ڈریگن فلائی کے حسیب قریشی نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار صارف قبولیت اور کریپٹو کرنسی کی ترقی کا موازنہ کرنا مصنوعات کی نوعیت کو غلط سمجھنا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کریپٹو کرنسی اور اے آئی مختلف اقسام کی ٹیکنالوجیز ہیں جن کے صارفین تک پہنچنے کے طریقے اور مقاصد مختلف ہیں، اس لیے ان کا موازنہ براہِ راست درست نہیں۔
ڈریگن فلائی ایک معروف سرمایہ کاری فرم ہے جو بلاک چین اور کرپٹو کرنسی کے شعبے میں سرگرم عمل ہے۔ اس کی رائے میں، سرمایہ داری کا نظام اپنی فطری کارروائی کر رہا ہے جہاں سرمایہ اور وسائل ان شعبوں میں منتقل ہو رہے ہیں جہاں زیادہ منافع اور ترقی کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں، اے آئی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت نے سرمایہ کاری کو متاثر کیا ہے، مگر یہ کریپٹو کرنسی کی ناکامی یا کمی نہیں بلکہ مارکیٹ کی قدرتی تبدیلی ہے۔
کریپٹو کرنسی ٹیکنالوجی نے گزشتہ دہائی میں مالیاتی نظام میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں، خاص طور پر ڈیجیٹل اثاثوں، بٹ کوائن اور ایتھیریم جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے۔ تاہم، اس کی گہرائی میں پیچیدگیاں، قانون سازی کی غیر یقینی صورتحال اور صارفین کی قبولیت کی رفتار مختلف رہی ہے۔ دوسری طرف، اے آئی نے صارفین کی روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی جگہ جلدی بنا لی ہے، جس سے اس کی تیزی سے ترقی ممکن ہوئی ہے۔
حسیب قریشی کے مطابق، یہ دونوں ٹیکنالوجیز اپنی اپنی جگہ مستقل اہمیت رکھتی ہیں اور سرمایہ کاری کے رجحانات وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہیں گے۔ یہ کہنا کہ کریپٹو اے آئی کے مقابلے میں کمزور ہو رہا ہے یا شکست کھا رہا ہے، حقیقت سے دور ہے۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاری کے رجحانات سرمایہ دارانہ نظام کی فطری خصوصیات ہیں، جو وقت کے ساتھ نئے مواقع اور چیلنجز کو جنم دیتی ہیں۔
اس لیے، سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ دونوں شعبوں کی تکنیکی خصوصیات اور مارکیٹ کے حالات کو سمجھ کر فیصلے کریں اور صرف ایک ٹیکنالوجی کو دوسرے کے مقابلے میں کمتر قرار نہ دیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk