کرپٹو کرنسی انڈسٹری کے ماہرین نے ایک اجلاس میں بتایا کہ ہانگ کانگ اور جاپان میں ریگولیٹری ترقی نے سرمایہ کاری کے لیے ایک منظم راہ متعین کی ہے، جس کے باعث ایشیائی ادارے اسٹبل کوائنز کی جانب رخ کر رہے ہیں۔ اسٹبل کوائنز وہ کرپٹو کرنسیاں ہوتی ہیں جن کی قیمت عام طور پر کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر یا سونا سے منسلک ہوتی ہے، تاکہ قیمت میں اتار چڑھاؤ کو کم کیا جا سکے۔
ہانگ کانگ اور جاپان میں حالیہ قوانین اور ضوابط نے کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو شفاف اور محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو اعتماد ملا ہے کہ وہ اپنے فنڈز کو بہتر طریقے سے مختص کر سکتے ہیں۔ اس تنظیمی فریم ورک کی وجہ سے ایشیائی مالیاتی ادارے اسٹبل کوائنز کو ایک محفوظ اور قابل اعتماد سرمایہ کاری کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں۔
کرپٹو کرنسی کے عالمی منظر نامے میں اسٹبل کوائنز کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں کرپٹو کی قیمتوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہے۔ اسٹبل کوائنز نہ صرف مالیاتی تبادلوں کو آسان بناتے ہیں بلکہ انہیں ڈیجیٹل معیشت میں ایک پل کا کام بھی سمجھا جاتا ہے، جو روایتی کرنسیوں اور کرپٹو کرنسیوں کے درمیان رابطہ قائم کرتے ہیں۔
اگرچہ اسٹبل کوائنز کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ریگولیٹری چیلنجز اور مارکیٹ کے متغیر حالات اس کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا ہوگا اور مارکیٹ کی صورتحال پر گہری نظر رکھنی ہوگی۔
اس اجلاس میں زیر بحث موضوعات نے ظاہر کیا کہ ایشیائی ممالک میں کرپٹو کرنسی کی صنعت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں مستحکم کرپٹو کرنسیاں مالیاتی نظام کا حصہ بن کر سرمایہ کاری کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے ساتھ، توقع کی جا رہی ہے کہ عالمی کرپٹو مارکیٹ میں ایشیائی اداروں کی اہمیت مزید بڑھے گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk