کریپٹو کرنسی انڈسٹری کو اب ایک اہم موڑ کا سامنا ہے کیونکہ امریکہ میں کلیرٹی ایکٹ کی حمایت کمزور پڑنے لگی ہے۔ معروف اثاثہ مینیجر بٹ وائز نے خبردار کیا ہے کہ وفاقی قانون سازی کے بغیر، اس صنعت کے لیے اگلے تین سال انتہائی اہم ہوں گے۔ ان سالوں کے دوران کریپٹو کرنسی کو لازمی اور ناگزیر بننا ہوگا ورنہ سیاسی حالات بدل سکتے ہیں جس کا اثر اس کی ترقی اور قبولیت پر پڑ سکتا ہے۔
کلیرٹی ایکٹ ایک مجوزہ قانون ہے جس کا مقصد کریپٹو کرنسی کی صنعت کو واضح قواعد و ضوابط فراہم کرنا ہے تاکہ سرمایہ کاروں اور صارفین کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ اس قانون کے ذریعے کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت واضح ہوگی اور اس کے ذریعے منی لانڈرنگ، فراڈ اور دیگر مالی جرائم سے بچاؤ ممکن ہو سکے گا۔ تاہم اس قانون کی حمایت میں اتار چڑھاؤ نے انڈسٹری میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
کریپٹو کرنسی کی دنیا میں حالیہ برسوں میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے اور اب یہ مالیاتی نظام کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ بٹ کوائن، ایتھیریم اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں نے روایتی مالیاتی نظام میں تبدیلی کی لہر دوڑائی ہے۔ لیکن اس ترقی کے باوجود، قانونی اور ضابطہ جاتی مسائل نے اس صنعت کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ بٹ وائز کی رپورٹ کے مطابق، اگر آئندہ چند سالوں میں کریپٹو کرنسی انڈسٹری خود کو لازمی اور قانون کے مطابق ثابت نہ کر سکی، تو اسے سخت ضوابط اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قانونی حمایت کے بغیر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے جو سرمایہ کاری کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ بات واضح ہے کہ کلیرٹی ایکٹ کی حتمی منظوری یا اس کی ناکامی سے کریپٹو کرنسی کی دنیا میں آنے والے وقت کے امکانات کافی حد تک متاثر ہوں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk