کریپٹو کرنسی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے نئے رجحانات میں سے ایک اسٹیaking کے ذریعے منافع حاصل کرنے والے ای ٹی ایف (ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز) کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر ایتھیریم (ETH) کی بنیاد پر بنائے گئے اس طرح کے فنڈز سرمایہ کاروں کو نہ صرف ایتھیریم کی قیمت میں اضافے سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیتے ہیں بلکہ اسٹیaking کے ذریعے اضافی منافع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اسٹیaking کا مطلب ہے کہ سرمایہ کار اپنی کرپٹو کرنسی کو نیٹ ورک کی سیکیورٹی اور لین دین کی تصدیق کے لیے مخصوص مدت کے لیے لاک کرتے ہیں، جس کے بدلے انہیں انعام کے طور پر اضافی کرپٹو کرنسی ملتی ہے۔
یہ فنڈز خاص طور پر ان سرمایہ کاروں کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں جو لمبے عرصے کے لیے ایتھیریم میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں اور انہیں اضافی آمدنی کا سلسلہ بھی چاہیے۔ تاہم، اسٹیaking کے ساتھ کچھ خطرات بھی وابستہ ہیں، جیسے کہ مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ کے دوران کرپٹو کرنسی کی قیمت میں کمی، اور فنڈ کی طرف سے کرپٹو کو لاک کرنے کے باعث فوری نقدی کی دستیابی میں مشکلات۔ مزید برآں، اس نوعیت کے فنڈز میں سیکیورٹی اور کسٹڈی کے مسائل بھی شامل ہو سکتے ہیں، کیونکہ سرمایہ کاروں کے اثاثے تھرڈ پارٹی کے حوالے ہوتے ہیں، جس سے ہیکنگ یا دیگر سیکیورٹی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ایتھیریم کی بلاک چین نیٹ ورک میں حالیہ اپ گریڈز نے اسٹیaking کے عمل کو مزید محفوظ اور مؤثر بنایا ہے، جس سے اس مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ گئے ہیں۔ تاہم، سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اپنے مالی مقاصد، خطرات کی برداشت، اور سرمایہ کاری کی مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیaking ای ٹی ایف میں سرمایہ کاری کریں۔ ہر سرمایہ کار کے لیے یہ متبادل مناسب نہیں ہو سکتا، خاص طور پر وہ لوگ جو تیزی سے نقدی نکالنے یا زیادہ لیکویڈیٹی چاہتے ہیں۔
مجموعی طور پر، اسٹیaking کے ذریعے منافع بخش ای ٹی ایف سرمایہ کاری کے ایک جدید طریقے کے طور پر ابھر رہے ہیں جو لمبے عرصے کے سرمایہ کاروں کو بہتر ریٹرن فراہم کر سکتے ہیں، لیکن ان میں شامل خطرات اور پیچیدگیوں کو سمجھنا لازمی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk