کرپٹو ڈارک نیٹ منشیات کے بادشاہ رُوئی سیانگ لن کو 30 سال قید کی سزا

زبان کا انتخاب

امریکہ میں ایک عدالت نے تائیوان کے کرپٹو کرنسی پر مبنی ڈارک نیٹ منشیات کے سب سے بڑے آپریٹر، رُوئی سیانگ لن کو 30 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ لن پر الزام ہے کہ اس نے 105 ملین ڈالر مالیت کے انکوگنیٹو مارکیٹ کے ذریعے منشیات کی فروخت کے لیے کرپٹو کرنسی اور شناخت چھپانے والے اوزار استعمال کیے۔ امریکی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر لن کی پہچان مشکل تھی، لیکن بعد ازاں ڈومین ریکارڈز اور ڈیجیٹل ٹریسز کی مدد سے اسے اس پلیٹ فارم سے جوڑا گیا۔
انکوگنیٹو مارکیٹ ایک مشہور آن لائن پلیٹ فارم تھا جہاں خفیہ اور غیرقانونی اشیاء کی خرید و فروخت کی جاتی تھی، خاص طور پر منشیات کی تجارت۔ اس پلیٹ فارم نے اپنی سروسز میں کرپٹو کرنسی کا استعمال کر کے لین دین کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی، جس کا مقصد صارفین کی شناخت چھپانا تھا۔ تاہم، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جدید تکنیکی طریقوں سے نہ صرف اس نیٹ ورک کو بے نقاب کیا بلکہ اس کے آپریٹرز کو بھی پکڑ کر قانونی کارروائی کی۔
کرپٹو کرنسی کی خصوصیت یہی ہے کہ یہ لین دین کو غیرمرکزی اور نسبتاً گمنام بناتی ہے، جس کی وجہ سے یہ غیرقانونی سرگرمیوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ تاہم، عالمی قانون نافذ کرنے والے ادارے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں تاکہ کرپٹو کرنسی کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
رُوئی سیانگ لن کی گرفتاری اور سزا سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں بھی قانون کی نظر ہے اور جرائم پیشہ افراد کو نہیں بخشا جائے گا۔ آئندہ بھی اس قسم کی سرگرمیوں پر سخت نگرانی اور کارروائی جاری رہنے کا امکان ہے تاکہ ڈارک نیٹ کے ذریعے غیر قانونی تجارت کو محدود کیا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے