حال ہی میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کرپٹو مارکیٹ کے نقصانات کا مذاق اڑایا گیا، جس پر کرپٹو انڈسٹری کے کئی سرکردہ رہنماؤں نے سخت تنقید کی ہے۔ اس پوسٹ میں کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں آئی بڑی گراوٹ اور اربوں ڈالر کی لیکویڈیشنز کو بطور طنز پیش کیا گیا تھا، جس سے مارکیٹ میں موجود سرمایہ کاروں اور کرپٹو کمیونٹی میں سخت ناپسندیدگی پائی گئی۔
کرپٹو کرنسیز ایک ڈیجیٹل یا ورچوئل کرنسی کی شکل میں موجود ہوتی ہیں جو بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان کرپٹو کرنسیوں نے پچھلے کئی برسوں میں مالیاتی دنیا میں ایک انقلابی تبدیلی کی نشان دہی کی ہے، جہاں بٹ کوئن، ایتھیریم اور دیگر متعدد کرپٹو کرنسیاں اب نہ صرف سرمایہ کاری کا ذریعہ بن چکی ہیں بلکہ عالمی مالیاتی نظام میں بھی ان کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
تاہم، کرپٹو مارکیٹ کی غیر مستحکم نوعیت کے سبب قیمتوں میں اچانک زوال آنا معمول کی بات ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ گزشتہ دنوں مارکیٹ میں آنے والی بڑی لیکویڈیشنز نے اس غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھاوا دیا، اور اس دوران کسی سیاسی جماعت کی جانب سے اس صورتحال کو مذاق کا موضوع بنانا کرپٹو کمیونٹی میں تشویش کا باعث بنا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ کی یہ اتار چڑھاؤ ایک فطری عمل ہے اور اس میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، مارکیٹ کی صحت یابی کے لیے مناسب ضابطہ کاری اور شفافیت کو فروغ دینا بھی اہم ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔
اگرچہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے کرپٹو کرنسیوں پر تنقید کا رجحان بڑھ رہا ہے، مگر ماہرین اور انڈسٹری رہنماؤں کا موقف ہے کہ کرپٹو کرنسیز کا مستقبل روشن ہے اور یہ مالیاتی دنیا میں ایک اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔ آئندہ عرصے میں مارکیٹ کی صورتحال، عالمی معیشتی حالات اور حکومتی پالیسیاں اس شعبے کی سمت کا تعین کریں گی، جس میں سرمایہ کاروں کو ہوشیار اور معلوماتی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt