تانبے کی قیمتوں میں کمیابی کے پیش نظر اضافہ متوقع

زبان کا انتخاب

تانبے کی قیمتوں میں آئندہ پانچ سالوں کے دوران نمایاں اضافہ متوقع ہے کیونکہ دنیا بھر میں اس دھات کی کمیابی ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ تانبا الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، نئی کان کنی کے منصوبے عموماً بارہ سے سترہ سال کے عرصے میں مکمل طور پر فعال ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے موجودہ طلب کو پورا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
تانبے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی پیشن گوئی کی جا رہی ہے کہ وہ 2031 تک 8 ڈالر فی پاؤنڈ سے تجاوز کر سکتی ہے اور 2038 تک یہ قیمت 12 ڈالر فی پاؤنڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے پیچھے بنیادی وجہ توانائی کے شعبے میں تبدیلی اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کی جانب بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے، جس کے لیے تانبا ناگزیر عنصر ہے۔
تانبے کی کمیابی صنعتی پیداوار اور توانائی کی منتقلی کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے جس سے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کان کنی کے نئے منصوبے بروقت مکمل نہ ہوئے یا پیداوار میں اضافہ نہ کیا گیا تو تانبے کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور یہ صورتحال مختلف صنعتوں کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
تانبے کی مارکیٹ میں یہ تبدیلیاں سرمایہ کاروں اور صنعتوں دونوں کے لیے اہم ہیں کیونکہ یہ دھات نہ صرف روایتی صنعتوں بلکہ جدید توانائی اور ٹرانسپورٹ شعبوں کی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے مستقبل قریب میں تانبے کے ذخائر کی حفاظت اور کان کنی کے منصوبوں میں تیزی لانا ضروری ہو گا تاکہ اس اہم دھات کی طلب کو مؤثر طریقے سے پورا کیا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے