COMEX میں چاندی کی گودام کی مقدار میں کمی، طلب میں اضافہ

زبان کا انتخاب

COMEX کے گوداموں میں چاندی کی مقدار میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جو بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتی ہے۔ چاندی کے ذخائر 34 ملین اونس کم ہو کر 415 ملین اونس رہ گئے ہیں، جو مارچ 2025 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ اس کمی کی وجہ سے چاندی کی مارکیٹ میں سختی آئی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
چاندی کی گودام کی مجموعی مقدار ستمبر کے مہینے میں اپنے عروج پر 117 ملین اونس زیادہ تھی، جس کا مطلب ہے کہ اب یہ مقدار 22 فیصد کم ہو چکی ہے۔ یہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چاندی کی فزیکل طلب بہت زیادہ ہے اور شارٹ سیلرز کو اپنی مستقبل کی کانٹریکٹس پوری کرنے کے لیے حقیقی چاندی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جب تاجروں کو کافی مقدار میں چاندی دستیاب نہیں ہوتی تو انہیں زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، جو بیچنے والوں کی جانب سے مقرر کی جاتی ہے۔
یہ صورتحال چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں مزید تاجروں کو نقصان سے بچنے کے لیے خریداری کرنی پڑتی ہے۔ اس طرح مارکیٹ میں چاندی کی کمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معاملات مزید سخت ہو جاتے ہیں، جسے “چاندی کا شارٹ سکویز” کہا جاتا ہے۔
COMEX، جو دنیا کا ایک اہم کموڈیٹی ایکسچینج ہے، جہاں چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں کی تجارت ہوتی ہے، اس رپورٹ کے مطابق چاندی کی طلب میں اضافہ سرمایہ کاروں اور صنعتی استعمال کے باعث ہو رہا ہے۔ چاندی کا استعمال خاص طور پر الیکٹرانکس، فوٹوگرافی اور طبی آلات میں بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے۔
آئندہ کچھ عرصے میں اگر چاندی کی فراہمی میں اضافہ نہ ہوا تو قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جو سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کے لیے اہم چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے