کوئن مکسرز کی بحالی، صارفین نئے پلیٹ فارمز کی جانب منتقل ہو رہے ہیں: کیمبرج یونیورسٹی

زبان کا انتخاب

کرپٹو کرنسی کی دنیا میں کوئن مکسرز کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے جہاں صارفین اپنی مالی رازداری کو یقینی بنانے کے لیے مختلف مکسنگ پروٹوکولز کا استعمال کرتے ہیں۔ حال ہی میں کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ ریلوگن (Railgun) اب سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مکسنگ پروٹوکول بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ، ٹورنیڈو کیش (Tornado Cash) نے گزشتہ سال عائد کی گئی پابندیوں کے خاتمے کے بعد محدود حد تک بحالی کا مظاہرہ کیا ہے۔
کوئن مکسرز کا بنیادی مقصد کرپٹو کرنسی ٹرانزیکشنز کو گمنام بنانا ہوتا ہے تاکہ صارفین کی مالی معلومات اور لین دین کی تفصیلات کو پوشیدہ رکھا جا سکے۔ اس حوالے سے، ٹورنیڈو کیش ایک معروف مکسنگ سروس تھی جس پر مختلف ممالک نے پابندیاں عائد کی تھیں، مگر ان پابندیوں کے ختم ہونے کے بعد اس کی مقبولیت میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب، ریلوگن نے اپنی جدید ٹیکنالوجی اور بہتر حفاظتی نظام کی بدولت صارفین کا اعتماد حاصل کیا ہے اور مارکیٹ میں اپنی جگہ مضبوط کی ہے۔
یہ تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کرپٹو کرنسی صارفین اپنی پرائیویسی کو بہتر بنانے کے لیے نئے اور موثر ذرائع اپنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم، کوئن مکسرز کے استعمال سے متعلق قانونی اور سیکیورٹی خدشات بھی موجود ہیں کیونکہ بعض اوقات ان کا غلط استعمال غیر قانونی سرگرمیوں میں کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے مختلف حکومتیں اور ریگولیٹری ادارے اس شعبے پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مالی شفافیت اور قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
مستقبل میں، کوئن مکسرز کی ٹیکنالوجی میں مزید بہتری اور صارفین کے لیے آسانی پیدا کرنے کے امکانات موجود ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی قانونی پابندیوں اور نگرانی کا دائرہ بھی سخت ہوتا جائے گا۔ صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس شعبے کی ترقیات سے باخبر رہیں اور قانونی دائرے میں رہ کر اپنی مالی رازداری کو یقینی بنائیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے