کلاؤڈ بوٹ کو قانونی اور سیکیورٹی مسائل کا سامنا، کرپٹو کرنسی فراڈ میں بھی پھنس گیا

زبان کا انتخاب

کلاؤڈ بوٹ، جو ایک مقبول اوپن سورس پراجیکٹ تھا اور گیٹ ہب پر اس کے 80,000 سے زائد اسٹارز تھے، کو حال ہی میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ ٹول صارفین کو مقامی طور پر مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹس چلانے کی سہولت دیتا ہے جو واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور ڈسکارڈ جیسی میسجنگ ایپس کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ مگر اب اسے قانونی مسائل کی وجہ سے اپنا نام تبدیل کرنا پڑا ہے اور کرپٹو کرنسی فراڈ کے نشانے پر بھی آ چکا ہے۔
یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک نے کلاؤڈ بوٹ کے خالق کے خلاف ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی کا دعویٰ دائر کیا۔ اینتھروپک کا کہنا تھا کہ “Clawd” نام اس کے اپنے “Claude” ماڈل کے نام سے بہت ملتا جلتا ہے، جو ٹریڈ مارک قوانین کے تحت قابل اعتراض تھا۔ اس قانونی تنازع نے کئی مسائل کو جنم دیا، جن میں ایک جعلی ٹوکن کا ظہور بھی شامل ہے جو کلاؤڈ بوٹ سے غلط طور پر منسلک تھا اور جس کی مارکیٹ ویلیو مختصر وقت کے لیے 16 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، لیکن بعد میں گراوٹ کا شکار ہوا۔
مزید برآں، محققین نے کلاؤڈ بوٹ کے گیٹ وے میں سیکیورٹی کمزوریاں دریافت کی ہیں، جس کی وجہ سے صارفین کے اکاؤنٹ کی تفصیلات آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یہ مسائل نہ صرف پراجیکٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ تکنیکی کمیونٹی میں بھی اسے وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا ہے۔
کلاؤڈ بوٹ کا مقصد صارفین کو آسان اور موثر طریقے سے AI اسسٹنٹس تک رسائی دینا تھا، جو عام طور پر مہنگے اور پیچیدہ کلاؤڈ سروسز پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن اب قانونی اور سیکیورٹی خطرات نے اسے ایک غیر مستحکم حیثیت میں ڈال دیا ہے۔ مستقبل میں اس کے لیے یہ بہت ضروری ہوگا کہ وہ اپنی قانونی پوزیشن مستحکم کرے اور سیکیورٹی کے نقائص کو دور کرے تاکہ صارفین کا اعتماد بحال ہو سکے اور پراجیکٹ اپنی اصل صلاحیتوں کے مطابق ترقی کر سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے