سیٹی کا کہنا ہے کہ کلیرٹی ایکٹ کی حمایت بڑھ رہی ہے، مگر ڈی فائی تنازعہ کرپٹو بل کی منظوری میں رکاوٹ بن سکتا ہے

زبان کا انتخاب

واشنگٹن میں ایک تاریخی کرپٹو کرنسی ریگولیشن کے فریم ورک کی تشکیل کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم ڈی فائی (غیر مرکزی مالیاتی نظام) اور اسٹیبل کوائن انعامات کے حوالے سے اختلافات کی وجہ سے اس بل کی حتمی منظوری 2026 کے بعد تک موخر ہو سکتی ہے۔ کلیرٹی ایکٹ کا مقصد کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو واضح اور مضبوط قواعد و ضوابط فراہم کرنا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور مالیاتی نظام میں شفافیت بڑھے۔
ڈی فائی، جو کہ بلاک چین پر مبنی ایک خود مختار مالیاتی نظام ہے، روایتی مالیاتی اداروں کو چیلنج کرتا ہے اور اس کے ریگولیشن کے حوالے سے حکومتی اداروں میں پیچیدہ بحث جاری ہے۔ اسٹیبل کوائنز، جو کرپٹو کرنسی کی ایک قسم ہیں اور ان کی قیمت عام طور پر کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے، مالیاتی استحکام کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں لیکن ان کی انعامی پالیسیاں بھی تنازع کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
کرپٹو کرنسیز اور ان کے پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی وجہ سے دنیا بھر میں حکومتیں اور ریگولیٹری ادارے قوانین بنانے میں مصروف ہیں تاکہ مالیاتی جرائم اور فراڈ کو کم کیا جا سکے۔ امریکہ میں کلیرٹی ایکٹ کی منظوری سے کرپٹو انڈسٹری کو قانونی پہچان ملے گی، لیکن اگر ڈی فائی اور اسٹیبل کوائن کے معاملات پر اتفاق رائے نہ ہو سکا تو اس عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
آئندہ چند سالوں میں کرپٹو کرنسی کی صنعت کو ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا رہے گا، جس کا اثر مارکیٹ کی نمو اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، قانون ساز اداروں کی کوشش ہے کہ ایک متوازن اور جامع قانون سازی کے ذریعے مارکیٹ کو مستحکم کیا جائے تاکہ کرپٹو کرنسی مستقبل میں مالیاتی نظام کا ایک اہم حصہ بن سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے