کرپٹو کرنسی کے میدان میں سرکل کا USDC طویل عرصے تک بغیر کسی قابلِ اعتماد گھریلو مقابل کے کامیابی سے کام کرتا رہا ہے۔ تاہم، اب ٹیثر کی نئی اسٹیبل کوائن USAT نے اس میدان میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے باعث ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کرپٹو مارکیٹ کے منظرنامے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
USDC، جو کہ ایک امریکی ڈالر سے منسلک اسٹیبل کوائن ہے، نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں میں اپنی جگہ مضبوطی سے بنا رکھی ہے۔ یہ کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری، لین دین اور مالیاتی خدمات کے لیے ایک قابل اعتماد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں، ٹیثر کی USAT بھی ایک اسٹیبل کوائن ہے جو امریکی ڈالر کے برابر ہے، لیکن اس کا مقصد زیادہ تر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنا ہے جو کرپٹو مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر سرمایا کاری کرتے ہیں۔
ٹیثر، جو پہلے سے ہی مارکیٹ میں ایک معروف اور بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والا اسٹیبل کوائن فراہم کنندہ ہے، اپنی USAT کے ذریعے سرکل کے USDC کو براہ راست چیلنج کر رہا ہے۔ یہ نئی پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے اسٹیبل کوائنز کی مارکیٹ میں مقابلہ سخت ہو جائے گا، جس کا اثر کرپٹو کرنسی کے شعبے کی مسابقتی صورتحال اور ٹیکنالوجی اپنانے پر پڑ سکتا ہے۔
اس تبدیلی کے ممکنہ اثرات میں شامل ہیں کہ سرمایہ کار اپنی ترجیحات بدل سکتے ہیں، جس سے USDC کی مارکیٹ شیئر میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ نیز، اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں مزید شفافیت اور بہتر ریگولیشنز کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ صارفین اور سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
مجموعی طور پر، ٹیثر کی USAT کی آمد سے کرپٹو اسٹیبل کوائنز کی دنیا میں نئی حرارت آئی ہے، جو مستقبل میں مارکیٹ کی سمت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف صارفین بلکہ کرپٹو کرنسی کے ادارے بھی اپنی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk