چین کے نیشنل بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے آج صبح صارف قیمت اشاریہ (CPI) اور پیداواری قیمت اشاریہ (PPI) کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں بیس پیریڈ کی ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے جو سالانہ بنیاد پر CPI اور PPI کے اشاریوں پر بالترتیب تقریباً 0.06 اور 0.08 فیصد پوائنٹس کے معمولی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس ایڈجسٹمنٹ کا مجموعی اثر نسبتاً کم ہے اور مارکیٹ کے عمومی رجحانات پر گہرا اثر ڈالنے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
سی پی آئی اور پی پی آئی چین کی معیشت کے اہم پیمانے ہیں جو صارفین کی اشیاء کی قیمتوں اور پیداواری سامان کی قیمتوں میں تبدیلیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار حکومتی پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں، اور تجزیہ کاروں کے لیے اہم ہوتے ہیں تاکہ وہ مہنگائی کی سطح اور اقتصادی صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔ بیس پیریڈ کی ایڈجسٹمنٹ عام طور پر اس لیے کی جاتی ہے تاکہ مختلف ادوار کے درمیان قیمتوں کی موازنہ میں درستگی آئے اور اعداد و شمار میں وقت کے ساتھ ہونے والی ساختی تبدیلیوں کو بہتر طور پر عکاسی کی جا سکے۔
چین کی معیشت حالیہ برسوں میں مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن میں عالمی تجارتی کشیدگی، داخلی طلب میں اتار چڑھاؤ، اور کووڈ-19 وبا کے اثرات شامل ہیں۔ CPI اور PPI کے اعداد و شمار سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مہنگائی کی صورتحال کیسی ہے اور کس حد تک پیداوار کی لاگت صارفین تک منتقل ہو رہی ہے، جو کہ معاشی استحکام اور پالیسی کی سمت کے لیے اہم اشارے ہوتے ہیں۔
آئندہ مہینوں میں یہ اعداد و شمار سرمایہ کاری کے فیصلوں اور مالیاتی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر مہنگائی کی شرح میں غیر متوقع اضافہ یا کمی واقع ہو۔ اس کے علاوہ، عالمی معیشت میں چین کا کردار چونکہ بہت اہم ہے، اس لیے یہاں کے اقتصادی اعداد و شمار بین الاقوامی مارکیٹوں کی بھی سمت متعین کر سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance