اوپن اے آئی نے اپنے مشہور چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات کا تجربہ شروع کر دیا ہے، جو اینتھروپک نامی کمپنی کی جانب سے سپر باؤل میں چلائی گئی اشتہاری مہمات کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا۔ اینتھروپک نے سپر باؤل میں ایسے اشتہارات دکھائے جن میں چیٹ جی پی ٹی پر اشتہارات کی ضرورت کو طنزیہ انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ اوپن اے آئی کے اس اقدام کے پیچھے کمپنی کے مالی خسارے کی بڑی وجہ ہے، جو حالیہ رپورٹس کے مطابق اربوں ڈالرز میں تھا۔
اوپن اے آئی کی چیٹ جی پی ٹی ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں افراد اور کاروباروں کی طرف سے استعمال ہو رہا ہے۔ اس کی مقبولیت کے باوجود، کمپنی کو مالیاتی دباؤ کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اب وہ اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے اشتہارات کی شمولیت پر مجبور ہوئی ہے۔ صارفین کو اب چیٹ جی پی ٹی کے انٹرفیس پر مختلف اقسام کے اشتہارات دکھائے جائیں گے، جو کمپنی کی آمدنی میں اضافے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اینٹھروپک کی کمپنی بھی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرگرم ہے اور اس کا مقصد مارکیٹ میں اوپن اے آئی کی بالادستی کو چیلنج کرنا ہے۔ اس نے اپنی سپر باؤل کی اشتہاری مہمات میں چیٹ جی پی ٹی کے اشتہارات کے خیال کو ہنسی مذاق کا نشانہ بنایا، تاہم اوپن اے آئی نے فوری طور پر اس حکمت عملی کو اپناتے ہوئے اشتہارات متعارف کروا دیے۔
یہ قدم مصنوعی ذہانت کی صنعت میں اس وقت سامنے آیا ہے جب کئی کمپنیاں اپنی مصنوعات کے لیے نئے مالیاتی ماڈلز تلاش کر رہی ہیں تاکہ ترقی کو برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم، اشتہارات کے اضافے سے صارفین کی جانب سے ردعمل کا امکان بھی ہے، خاص طور پر وہ صارفین جو بغیر کسی مداخلت کے تجربہ چاہتے ہیں۔
مستقبل میں، اوپن اے آئی کو چاہیے کہ وہ صارفین کی توقعات اور اشتہارات کے مابین توازن قائم رکھے تاکہ اپنی ساکھ اور صارفین کی تعداد کو متاثر نہ ہونے دے۔ اس کے علاوہ، مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ میں مقابلہ مزید سخت ہوتا جا رہا ہے، جس سے کمپنیوں کو اپنی خدمات کو بہتر بنانے اور مالی استحکام کے لیے نئے ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt