امریکی کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) کے شکاگو دفتر میں اب کوئی بھی نفاذ کرنے والا وکیل موجود نہیں ہے، جو کہ ایک رپورٹ کے مطابق ادارے کی قانونی ٹیم میں نمایاں کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں، CFTC کی جانب سے مالیاتی ریلیف کی رقم میں بھی 99.9 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب CFTC کرپٹو کرنسی اور پیشن گوئی مارکیٹس کو اپنانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
CFTC ایک وفاقی ایجنسی ہے جو امریکہ میں کموڈٹی اور فیوچرز مارکیٹس کی نگرانی اور ضابطہ کاری کرتی ہے۔ اس کا مقصد مارکیٹ میں شفافیت، منصفانہ تجارت، اور مالیاتی فراڈ سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ تاریخی طور پر، CFTC نے سخت نفاذی اقدامات کے ذریعے مارکیٹس کو ریگولیٹ کیا ہے، جس میں قانونی کارروائیاں اور جرمانے شامل ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں کرپٹو کرنسیوں اور نئی مالیاتی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر، CFTC نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔
کرپٹو کرنسیز، جیسے کہ بٹ کوائن اور ایتھیریم، نے روایتی مالیاتی نظام میں ایک نیا باب کھولا ہے، جس میں ڈی سینٹرلائزڈ اور بلاک چین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر چلنے والی مارکیٹس شامل ہیں۔ ساتھ ہی، پیشن گوئی مارکیٹس، جہاں صارفین مستقبل کے واقعات پر شرط لگاتے ہیں، بھی ایک ابھرتی ہوئی فیلڈ ہے جسے CFTC نے نسبتاً کم پابندیوں کے ساتھ اپنانا شروع کیا ہے۔ اس تبدیلی کا اثر یہ ہوا ہے کہ CFTC کی قانون نافذ کرنے والی ٹیم میں کمی واقع ہوئی ہے، اور ایجنسی کی مالیاتی جرمانے کی وصولی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ماہرین کے مطابق، CFTC کی اس نئی حکمت عملی کا مقصد کرپٹو اور دیگر جدید مالیاتی آلات کی ترقی کو فروغ دینا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں نگرانی کی کمی اور ممکنہ مالیاتی جرائم کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ CFTC کس طرح اپنی ریگولیٹری ذمہ داریوں اور کرپٹو سمیت نئی مارکیٹس کی ترقی کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt