امریکی کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) کے چیئرمین مائیک سیلگ نے اپنی ایجنسی کے دائرہ اختیار کا دفاع کرتے ہوئے پیشن گوئی مارکیٹوں کے تنازع پر ریاستوں کی مداخلت کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پیشن گوئی مارکیٹیں ایسی پلیٹ فارمز ہوتی ہیں جہاں صارفین مختلف واقعات کے نتائج پر شرط لگاتے ہیں، جیسے سیاسی انتخابات یا کھیلوں کے مقابلے، اور یہ مارکیٹیں مالیاتی شعبے میں بڑھتی ہوئی اہمیت کی حامل ہیں۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب متعدد امریکی ریاستیں ان مارکیٹوں پر پابندیاں عائد کر رہی ہیں یا ان کی سرگرمیوں کو محدود کر رہی ہیں، جس سے CFTC اور ریاستوں کے درمیان قانونی تنازع بڑھ رہا ہے۔ CFTC خود کو اس شعبے میں نگرانی کرنے والا مرکزی ادارہ سمجھتا ہے کیونکہ پیشن گوئی مارکیٹیں مالیاتی معاہدوں کی نوعیت رکھتی ہیں، جن پر اس کا قانونی کنٹرول لازم ہے۔
پیشن گوئی مارکیٹس نے حالیہ برسوں میں تیزی سے ترقی کی ہے اور یہ مارکیٹیں مالیاتی جدت اور ڈیجیٹل اثاثوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ بن چکی ہیں۔ تاہم، ان مارکیٹوں کی قانونی حیثیت اور ان پر کنٹرول کا دائرہ کار کئی ریاستوں میں مختلف ہے، جس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین اختلافات پیدا ہو رہے ہیں۔
سیلگ کی جانب سے قانونی کارروائی کا اعلان واضح پیغام ہے کہ CFTC اپنی نگرانی کے دائرہ کو محدود کرنے یا ریاستوں کی مداخلت کو قبول کرنے کے بجائے اپنی قانونی حیثیت کو مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سے ان مارکیٹوں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد اور اداروں کو مستقبل میں قواعد و ضوابط کے حوالے سے وضاحت مل سکتی ہے، لیکن ممکنہ قانونی جنگ بھی طویل اور پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یہ تنازعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل اور مالیاتی جدت کے میدان میں قانون سازی اور نگرانی کے نظام کو عالمی اور قومی سطح پر ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مارکیٹوں کی شفافیت اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk