میکسیکو میں جلیسکو نیو جنریشن کارٹل کے سربراہ نیمیشیو روبن اوسیگیرا سروانتس المعروف “ایل مینچو” کی موت کے بعد ملک بھر میں تشویشناک سطح پر ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ یہ واقعہ منشیات کی تجارت میں کرپٹو کرنسی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی ایک اہم نشاندہی کرتا ہے۔ حکام کے مطابق کارٹل نے بٹ کوائن، ایتھیریم، مونرو اور ٹیتر جیسی ڈیجیٹل کرنسیوں کا استعمال کرکے منشیات کی فروخت سے حاصل شدہ رقم کو منی لانڈرنگ میں استعمال کیا، خاص طور پر فینٹانائل کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد کی خریداری کے لیے۔
ایل مینچو کی موت کے باوجود کارٹل کی مالی کارروائیاں اب بھی پیچیدہ اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، جو میکسیکو کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ منشیات کے خلاف جنگ میں کرپٹو کرنسی کا کردار مزید واضح ہوتا جا رہا ہے کیونکہ یہ کرنسیاں ریکارڈ کو چھپانے اور بین الاقوامی مالیاتی نظام سے بچ نکلنے میں مدد دیتی ہیں۔
جلیسکو نیو جنریشن کارٹل ملک میں سب سے طاقتور اور خطرناک منشیات سمگلنگ گروپوں میں شمار ہوتا ہے، جس نے کئی سالوں سے فینٹانائل اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی تجارت سے اربوں ڈالرز کمائے ہیں۔ اس گروپ کی مالیاتی سرگرمیوں میں کرپٹو کرنسی کا استعمال قانون نافذ کرنے والوں کے لیے نئی مشکلات پیدا کر رہا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل کرنسیاں روایتی بینکنگ نظام سے بالکل مختلف طریقے سے کام کرتی ہیں اور ان کی نگرانی مشکل ہوتی ہے۔
میکسیکو میں اس واقعے کے بعد حکام نے کرپٹو کرنسی کے استعمال پر سخت نگرانی کا اعلان کیا ہے تاکہ منشیات کے کاروبار کو مالی طور پر کمزور کیا جا سکے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ کارٹلز کی جانب سے استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجیز میں مسلسل جدت آرہی ہے، جس کی وجہ سے ان کے خلاف موثر کارروائی کے لیے جدید اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
مجموعی طور پر، ایل مینچو کی موت منشیات کی تجارت میں ایک اہم موڑ ہے، لیکن کارٹل کی مالیاتی طاقت اور کرپٹو کرنسی کے استعمال نے اس جنگ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث میکسیکو میں امن و امان کی صورتحال غیر مستحکم رہنے کا خدشہ ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance