برازیل کے صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر لوئز ایناسیو لولا دا سلوا اور فلاویو بولسونارو کے درمیان مقابلہ سخت ہوتا جا رہا ہے اور ایک حالیہ سروے کے مطابق دونوں امیدواروں کی حمایت برابر ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ اکتوبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل دونوں امیدوار اتنی قریب پہنچے ہیں، جس سے ملک میں سیاسی تقسیم اور کشیدگی کی عکاسی ہوتی ہے۔
برازیل کے سیاست میں یہ انتخابات خاص اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ملک کی معیشت، سماجی مسائل اور عالمی تعلقات پر ان کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ لوئز ایناسیو لولا دا سلوا، جو پہلے بھی برازیل کے صدر رہ چکے ہیں، ترقی پسند پالیسیوں کے حامی سمجھے جاتے ہیں جبکہ فلاویو بولسونارو، سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے، قدامت پسند اور سخت گیر نظریات کے حامل ہیں۔ دونوں امیدوار اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کی حمایت سے ملک کے مختلف طبقوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انتخابات کے قریب آتے ہوئے دونوں امیدوار اپنی مہمات کو مزید تیز کر رہے ہیں تاکہ وہ غیر جانبدار ووٹروں کو اپنی جانب راغب کر سکیں۔ برازیل کے سیاسی منظرنامے میں یہ کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے انتخابات ملک کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔ اس مقابلے کا اثر نہ صرف برازیل کی داخلی پالیسیوں پر پڑے گا بلکہ خطے کی سیاسی صورتحال پر بھی اس کا اثر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انتخابی مقابلہ اسی طرح برابر جاری رہا تو ممکن ہے کہ انتخابات میں کوئی واضح فاتح سامنے نہ آئے اور نتائج متنازعہ ہو سکیں، جس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے دونوں امیدواروں اور ان کی جماعتوں کے لیے یہ انتہائی اہم مرحلہ ہے جس میں وہ اپنی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance