بلو آؤل کی لیکویڈیٹی بحران نے سرمایہ کاروں کو 2008 کی طرح کے مندی کے امکانات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کا اثر بٹ کوائن کی اگلی تیزی والی مارکیٹ پر بھی پڑ سکتا ہے

زبان کا انتخاب

نجی سرمایہ کاری کمپنی بلو آؤل کیپٹل نے اس ہفتے تقریباً 15 فیصد کی زبردست کمی دیکھی ہے کیونکہ اسے اپنے ایک نجی کریڈٹ فنڈ سے نکلنے والے سرمایہ کاروں کو ادائیگی کے لیے 14 ارب ڈالر کے اثاثے فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ واقعہ مالیاتی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کے شدید دباؤ کی علامت ہے، جو 2008 کے عالمی مالی بحران کی یاد دلاتا ہے جب بڑی سرمایہ کاری فرموں کو اپنے اثاثے فروخت کرنے پڑے تھے۔
بلو آؤل کیپٹل نجی ایکویٹی اور نجی کریڈٹ میں مہارت رکھنے والی ایک بڑی کمپنی ہے جو مختلف سرمایہ کاری فنڈز چلاتی ہے۔ اس طرح کا بحران اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرمایہ کار اپنے فنڈز سے تیزی سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے کمپنی کو اثاثے جلد بازی میں بیچنا پڑے ہیں، جو عام طور پر کم قیمت پر ہوتے ہیں۔ اس صورتحال سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی اور مارکیٹ میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ لیکویڈیٹی بحران عالمی مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر نجی سرمایہ کاری کے شعبے میں جہاں سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کی واپسی چاہتے ہیں۔ اس کا اثر دیگر مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاری فنڈز پر بھی پڑ سکتا ہے جن کے پاس اسی طرح کے اثاثے ہیں۔ اس قسم کے حالات میں سرمایہ کار عام طور پر محفوظ اثاثوں کی طرف رجوع کرتے ہیں، جس میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
بٹ کوائن کی اگلی تیزی والی مارکیٹ اس بحران کے باعث رونما ہو سکتی ہے، کیونکہ کچھ سرمایہ کار روایتی مالیاتی مارکیٹوں سے نکل کر کرپٹو کرنسیوں میں سرمایہ کاری کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ تاہم، کرپٹو مارکیٹ کی خود بھی اپنی اتار چڑھاؤ والی فطرت کی وجہ سے یہ تبدیلی مکمل طور پر پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔
مستقبل میں، اگر بلو آؤل کیپٹل اور دیگر نجی سرمایہ کاری ادارے اپنی لیکویڈیٹی کی مشکلات کو حل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو مارکیٹ کو استحکام مل سکتا ہے، ورنہ مالیاتی بازاروں میں مزید کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال جاری رہ سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش